ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے آج تہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہاکہ امریکی ریاست اس وقت بھی علاقے کی قوموں کی حمایت کے بہانے اپنا تسلط بڑھانے اور صہیونی ریاست کو نجات دینےکی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گيارہ ستمبر دوہزار ایک کے واقعات کے بعد امریکہ نے دہشتگردی کے خلاف مقابلے کے بہانے اپنے اور صہیونی ریاست کے مفادات حاصل کرنےکےلئے علاقے کا رخ کیا اور آج بھی اس نے عوامی تحریکوں کو دیکھ کر اور قوموں کی استقامت کے ہاتھوں شکست کھا کر اپنی پالیسیاں بدل دی ہیں لیکن اس کا ھدف وہی پرانا ھدف ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہاکہ امریکی ریاست صرف امریکی اسلام کو پسند کرتی ہے ایسا لبرل اسلام جو امریکہ اور انسانیت مخالف صہیونی ریاست کے تسلط اور توسیع پسندی کو تسلیم کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا صہیونی ریاست امریکہ کے اشاروں پر ناچنے کو تیار ہے۔ انہوں نے پیشین گوئي کی کہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی تحریکیں یورپ اور ایشیا سمیت دیگر علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے اسلام کے تعلق سے واشنگٹن کی پالیسیوں کےبارےمیں کہا کہ ہمیں موثق ذرایع سے اطلاعات ملی ہیں کہ امریکہ پاکستان پرتسلط جمانے اور پاکستانی قوم اور حکومت کو کمزور بنانے کے لئے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات میں تخریبی کاروائياں کرنا چاہتاہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس اقدام کے سہارے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اوردیگر عالمی اداروں کو ہتھکنڈے کے طورپراستعمال کرکے علاقے میں اپنی موجود گي بڑھانا چاہتاہے اور پاکستان کے قومی اقتدار اعلی کوکمزور کرنے کے درپئےہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز