ابنا: اسامہ کی ہلاکت کے بعد پاک فوج نے پانچ امریکی ہیلی کاپٹروں کے آپریشن کو تسلیم کیا تھا۔ برطانوی اخبار نے اپنے مضمون میں اسامہ کی ہلاکت کے بعد پاک فوج پر سخت تنقیدپر تفصیلی مضمون میں لکھا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ کی ہلاکت کے ایک ماہ بعد بھی پاکستان ایک ڈگمگاتی حالت میں ہے۔ گزشتہ چھ دہائیوں سے فوج ہی براہ راست اور بالواسطہ پاکستان کی تقدیر کی مالک ہے۔ اخبارمزید لکھتا ہے کہ فوجی جرنیلوں پر الزام لگائے جا رہے ہیں کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کیا کرسکتے، جب کہ وہ اپنے ملٹری بیسز کی حفاظت نہیں کرسکتے، حتیٰ کہ گلیوں میں معمولی جھگڑے کو نہیں روک سکتے۔اسامہ کی ہلاکت کے بعد فوج اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ 47 یو ایس نیوی سیلز پانچ ہیلی کاپٹروں میں آئے اور بغیر کسی مزاحمت کے حساس علاقے میں39منٹ آپریشن کے بعد وہ دنیا کے سب سے مطلوب شخص کی لاش لے جانے میں کامیاب رہے۔اس کے فوری ردعمل میں عسکریت پسندوں کے خود کش بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا،جس میں150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ،ان ہلاکتوں میں زیادہ فوجی جوان شامل تھے۔برطانوی اخبار کے مطابق نیوی بیس حملہ اورایک صحافی کا قتل کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافی برادری کی انگلیاں حساس اداروں کی طرف اٹھ رہی ہیں، خفیہ ادارے ان الزامات کی تردید کررہے ہیں ۔اسامہ کے بعد زیادہ تنقید کا فوکس فوج ہے۔ پارلیمنٹ میں سیاستدانوں نے فوجی جنرلوں پر سوالات کی بوچھاڑ کی۔ ایک پارلیمنٹیرین نے جنرل شجاع پاشاسے شکایت کی کہ آپ کے لوگوں نے مشرف دور میں اسے تشدد کا نشانہ بنایا ۔میڈیا روایت سے ہٹ کر فوج کے اعلیٰ جنرلوں،ان کے طریقہ کار اور طرز زندگی پر تنقید کرتا نظرآتا ہے۔انسانی حقوق کی علم بردار اور سپریم کورٹ بار کی صدر عاصمہ جہانگیر نے ایسے جنرلوں کو ڈفرکہتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی حفاظت کی بجائے شادی ہال چلانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔قدامت پسند سیاست دان بھی اس صورت حال پر زبان کھول رہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے احسن اقبال نے کہاکہ ماضی میں ملکی سلامتی کے معاملات مقدس خیال کرتے ہوئے کبھی زیر بحث نہیں لائے جاتے تھے، لیکن آج اس پر لوگ سوال اٹھارہے ہیں،مزید فوج کے اندر بھی غصہ ہے۔اسامہ کی ہلاکت کے بعد جنرل کیانی نے تین چھاؤنیوں میں اجلاس کی سربراہی کی۔ایک اعلیٰ فوجی جنرل اور سفارت کار کے مطابق کیانی کو اپنے ہی لوگوں کی طرف سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا اور زیادہ سوالات امریکا کی بے وفائی کے متعلق تھے۔ایک سفارتکار نے حال ہی میں کیانی سے ملاقات کی،ان کا کہنا تھا کہ کیانی بہت غصے میں ہیں اور اس سے قبل انہیں اس سے زیادہ پریشان نہیں دیکھا۔انہیں فوج کے اندر سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ ان جذبات کی تشفی کے لیے فوج نے امریکا کے ساتھ تعاون ختم کردیا اور کئی درجن امریکی ملٹری ٹرینرز کو واپس بھیج دیا اور ایسے کئی پروگراموں میں کمی کردی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز