29 مئی 2011 - 19:30

کراچی میں سندھ پولیس اور سی آئی ڈی پولیس نے گذشتہ کافی عرصہ سے ملت جعفریہ کے نوجوانوں کے خلاف تعصبانہ رویہ اختیار رکھا ہوا ہے جس کی تازہ مثال حالیہ دنوں مسجد سے گرفتار کئے گئے معذور شیعہ نوجوان منتظر امام پر جھوٹے مقدمات کی بھرمار کرنا ہے۔

ابنا: شیعت نیوز کی رپورٹ کے مطابق سندھ پولیس اور سی آئی ڈی پولیس کی سربراہی میں چلنے والی تحقیقیاتی ٹیموں نے کراچی  میں بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کر کے ان پر جھوٹے مقدمات کی بھرمار کر دی ہے ،واضح رہے کہ گذشتہ روز سی آئی ڈی پولیس افسران نے ایک پریس کانفرنس میں معذور شیعہ نوجوان منتظر امام پر جھوٹے مقدمات قائم کرتے ہوئے دس سے زائد من گھڑت مقدمات میں ملوث قرار دے دیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ پولیس اور سی آئی ڈی پولیس شیعہ دشمنی میں بڑھ چڑھ کر کام کر رہی ہے۔دورسی جانب معذور شیعہ نوجوان منتظر امام کے گھر والوں کاکہنا ہے کہ ان کابیٹا چنیوٹ میں کیٹرنگ کا کاروبار کر رہا تھا،جبکہ سندھ پولیس نے گذشتہ دنوںاسے کراچی میں نماز کے بعد مسجد کے باہر سے گرفتار کر لیا تھا جس کے بعد اب پولیس اور سی آئی ڈی افسران نے ان کے بے گناہ بیٹے پر من گھڑت الزامات عائد کر دئیے ہیں جو کہ بلکل غلط ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت