22 مئی 2011 - 19:30

پی این ایس مہران کی مختصر تاریخ: پی این بیس مہران پاک بحریہ کا پہلا نیول ایئر اسٹیشن ہے۔ کراچی کے قائد اعظم انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تیرہ ستمبر انیس سو پچھتر میں پہلی بار نیول ایئر اسٹیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ‎اس کے ابتدائی اسٹاف میں صرف آٹھ آفیسرز اور چار سیلرزشامل تھے۔ شروع میں پی این ایس مہران میں کسی قسم کا سازو سامان نہیں تھا، تاہم بعد ازاں برطانیہ سے خریدا گیا پہلاسی کنگ ہیلی کاپٹر یہاں شامل کیا گیا۔

ابنا:

‎مہران نیول - ائیربیس پر دہشت گردوں کا حملہپندرہ سے سے 20 دہشت گردوں کا تین اطراف سے حملہ 13اہلکار شہید،4دہشت گرد ہلاکپاکستان کی سکیورٹی فورسز نے سولہ گھنٹے کی لڑائی کے بعد کراچی میں بحریہ کے ائیربیس پرمکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔دہشت گردوں کے حملے میں بارہ اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک اور چار کو زندہ گرفتار کرلیاہے۔کراچی میں شارعِ فیصل پر واقع پاک بحریہ کے ائیربیس پی این ایس مہران پرجدید اسلحہ سے لیس دہشت گردوں نے اتوار کی رات ساڑھے دس بجے کے قریب تین اطراف سے حملہ کیا تھا۔انھوں نے راکٹ لانچرچلائے اور دستی بم پھینکےجس سے متعدد دھماکے ہوئے تھے۔آخری اطلاعات ملنے تک دہشت گردوں کے حملے اور جوابی کارروائی کے دوران بارہ اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ان میں گیارہ کا تعلق پاک بحریہ اورایک کا رینجرز سے بتایا گیا ہے۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پی این ایس مہران کی مرکزی عمارت کو کلئیرکرالیا گیا ہے اور حملہ آور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ختم ہوگیا ہے لیکن حفظ ماتقدم کے طورپر پوری عمارت کی کسی ممکنہ دہشت گرد کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظرمکمل تلاشی لی جارہی ہے۔رات حملے کی اطلاع ملتے ہی بحریہ کے کمانڈوز، نیول میرینز اور رینجرز کے دستے فوری طور پر پہنچ گئے اور انھوں نے علاقے کا محاصرہ کرلیا۔پاک بحریہ کے ترجمان نے بتایا کہ پی این ایس مہران پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد بیس سے زیادہ تھی۔انھوں نے بحریہ کے اہلکاروں پر راکٹ لانچروں اور خودکارہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی دوران چار دہشت گردوں نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑادیا اور چار کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔آپریشن میں چودہ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ان میں بحریہ کے گیارہ اوررینجرزکے تین اہلکار بتائے جارہے ہیں۔دہشت گردوں کے حملے میں امریکا سے حاصل کردہ پی 3سی اورین بحری جنگی طیارہ تباہ ہوگیا ہے اور ایک اورطیارے کو نقصان پہنچا ہے۔ترجمان پاک بحریہ سلمان علی نے صحافیوں کو بتایا کہ دہشت گردوں نے طیاروں اور دوسری تنصیبات پر راکٹوں سے حملہ کیا تھا جس سے یکے بعد دیگرے متعدد دھماکے ہوئے جن سے پی این ایس مہران میں آگ بھڑک اٹھی۔کمانڈر سلمان علی نے بتایا کہ دہشت گردوں نے راکٹ گرینیڈ سے ایک طیارے کو نشانہ بنایا تھا۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کراچی میں پاک بحریہ کے ائیربیس پرحملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے اور کہا ہے کہ اس نے یہ حملہ 2مئی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی امریکی فورسز کی کارروائی میں ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کیا ہے۔طالبان کے ایک ترجمان احسان اللہ احسان نے غیر ملکی خبررساں اداروں سے کسی نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم متحد اور مضبوط ہیں'۔طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بائیس جنگجووں نے پی این ایس مہران پر حملہ کیا تھا لیکن بحریہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ دس سے پندرہ دہشت گردوں بیس میں داخل ہوئے تھے۔ان میں سے چار سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے گئے اور باقی ایک عمارت میں ہتھیار بند ہو کر بری اور بحری فوج کے کمانڈوز پر کئی گھنٹے تک فاِئرنگ کرتے رہے تھے۔ اکتوبر2009ء میں راول پنڈی میں پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز جی ایچ کیو پر حملے کے بعد دہشت گردوں کا پاکستان کی کسی فوجی تنصیب پریہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بحریہ کے اڈے پر حملہ ، جوہری اثاثوں کے تحفظ سے متعلق سوالات میں اضافہ کراچی میں پاکستان بحریہ کی ایک اہم تنصیب پر منظم دہشت گرد حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا آپریشن پیر کو مکمل کر لیا گیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں بتایا کہ اتوار کی شب شروع ہونے والی لڑائی میں تین کمانڈوز سمیت سکیورٹی فورسز کے 10 اہلکار ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت پاک بحریہ کے فضائی بیڑے کے اڈے ’پی این ایس مہران‘ ایوی ایشن بیس پر 17 غیر ملکی، 11 چینی اور چھ امریکی، موجود تھے جنھیں فوری طور پر وہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ [انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ چینی اور امریکی وہاں ایک ساتھ کیا کرنے آئے تھے؟]۔اُنھوں نے کہا کہ اڈے پر حملہ کرنے والے چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جب کہ تمام کارروائی کے دوران کسی حملہ آور کو زندہ گرفتار نہیں کیا گیا۔شدت پسندوں کے ایک ترجمان کے مطابق کراچی میں ہونے والے حملے میں شریک جنگجو کئی دنوں تک لڑائی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بیان میں پی این ایس مہران پر اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسندوں کی بزدلانہ کارروائیاں ”دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستانی حکومت اور عوام کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی ہیں۔“[انھوں نے یہ نہیں کہا کہ اب جبکہ ملک کے حساس ترین مقامات دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں ہیں تو کیا ملکی ایجنسیوں اور فوج اور سول اداروں کی چھانٹی کرکے دہشت گردوں کا سراغ لگا کر ان اداروں کو پاک کرنا بھی چاہئے کہ نہیں؟]پاک بحریہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بحریہ مہران بیس کو دہشت گردوں سے کلیئر کرالیا گیا ہے اور مہران بیس اب پاک بحریہ کے مکمل آپریشنل کنٹرول میں ہے۔آئی جی سندھ نے کراچی میں پی این ایس مہران بیس پرحملے کے بعد سندھ بھر میں ریڈ الرٹ کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔محکمہ پولیس سے جاری اعلامیئے کے مطابق آئی جی پولیس سندھ فیاض احمد لغاری نے حیدر آباد، سکھر سمیت کراچی کی تمام اہم تنصیبات، سرکاری و نیم سرکاری اہم دفاتر، مساجد اور امام بارگاہوں، غیر ملکی سفارتکاروں کے دفاتر اور رہائش گاہوں کو فوری طور پر فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کرنیکی ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کی سخت نگرانی کی جائے۔..........................تا ہم بعض اطلاعات کے مطابق پی این ایس مہران پر دہشت گردوں کے حملے کا ڈراپ سین ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اس اطلاع کے مطابق جوابی کارروائی میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔ دہشت گرد چار سے پانچ سیاہ گاڑیوں میں اندر داخل ہوئے۔ دہشت گردوں کے حملے میں پاک بحریہ کے دو پی تھری سی اورین طیارے تباہ ہوگئے ہیں۔  ‎کراچی میں واقع نیول بیس پی این ایس مہران پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ سمیت ملک کے حساس مقامات پر سیکیورٹی کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا ہے۔ ‎بڑوں شہروں کے تمام داخلی اور خارجہ راستوں پر چیکنگ سخت کردی گئی ہے۔ سیکیورٹی اہلکار کسی بھی شخص کو شناختی کارڈ کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں دے رہے۔‎وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ دہشت گرد تین اطراف سے بیس میں داخل ہوئے۔ پاکستان کو توڑنے کی کوشش کرنے والے سرگرم ہوچکے ہیں ۔  کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں رحمن ملک نے کہا کہ القاعدہ اور طالبان پاکستان دشمن ہیں جو ملکی سالمیت پر حملے کررہے ہیں ۔ ‎ان کا کہنا تھا کہ خدارا القاعدہ کیلئے فاتحہ خوانی کرنے کے بجائے وطن عزیز کا ساتھ دیں ۔  انھوں نے بتایا کہ دہشت گردوں نے پی این ایس مہران میں ایک عمارت پر قبضہ کیا ہوا ہے جن کے خلاف کارروائی جاری ہے ۔ انھوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ تنقید کے بجائے سیکورٹی فورسز کا حوصلہ بڑھائیں!۔ [جس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ سیکورٹی والے اپنے بیس کا تحفظ نہ بھی کرسکیں تو قوم ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے جلوس نکالیں اور انہیں خراج تحسین پیش کریں لیکن یہ توقع سیکورٹی والوں کی موجودگی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ہزاروں افراد کی لاشیں اٹھانے والے عوام سے شاید زیاد بجا نہ ہو جبکہ عوام کو یہ بھی یقین ہوچکا ہے کہ یہ سیکورٹی والے ان کو تحفظ نہیں دیا کرتے!؟]۔۔۔۔۔۔۔۔۔حملے کے بعد مقامی ٹی وی چینلز پر دیکھائے جانے والے مناظر میں بیس کے اندر سے آگ کے شعلے اور دھویں کے بادل نظرآرہے تھے۔دھماکوں کے بعد ایمبولینس اور فائر برگیڈ گاڑیاں روانہ کردی گئیں جبکہ علاقے کو پولیس اور رینجرز نے گھیرے میں لئے رکھا۔ جبکہ میڈیا کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔واضح رہے کہ پچھلے دنوں کراچی میں پاکستان بحریہ کی دو بسوں کو تخریب کاروں نے نشانہ بنایا تھا۔کراچی میں نیوی کی تنصیبات پر حالیہ دنوں میں یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔اس سےقبل، 28اپریل کو بحریہ کے افسران کو لےجانے والی ایک بس پر کیے گئے بم حملے میں چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ اس واقعہ سے دو روز قبل کراچی میں نیوی کی دو بسوں کو چند منٹ کے وقفے سےنشانہ بنایا گیا تھا، جس میں چار افراد ہلاک اور50سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ دو مئی کو ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کے ایک خفیہ امریکی آپریشن میں ہلاکت کے واقعہ کے بعد طالبان عسکریت پسندوں نے اس کا بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی۔ القاعدہ کےسربراہ کی ہلاکت کے بعد سے اب تک ملک میں شدت پسندوں نے کئی ہلاکت خیز کارروائیاں کی ہیں:٭ چارسدہ میں یکے بعد دیگرے دوخودکش بم دھماکوں میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے90سے  زائد اہلکاروں کی ہلاکت، ٭ کراچی میں دو بار سعودی قونصل خانے پر حملے اور ایک سعودی سفارت کار کی ہلاکت،٭ پشاور میں دو روز قبل امریکی قونصل خانے کی دو گاڑیوں پر بم دھماکے، جن میں ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔ امریکی سفارت خانے نے اس حملے میں دو امریکیوں کو معمولی چوٹیں آنے کی تصدیق کی تھی۔طالبان نے ان تمام حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔کراچی میں نیوی کے فوجی اڈے پر حملے سے 2009 ء میں راولپنڈی میں پاکستان کی بری فوج کے ہیڈکوارٹر پر حملے کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ مبصرین کے مطابق جی ایچ کیو پر حملے کے بعد نیوی کی اس حساس تنصیب تک عسکریت پسندوں کا پہنچنا اور اس میں کئی گھنٹوں تک سرکاری افواج سے لڑنا پاکستانی حکام کے لیے یقینا باعث تشویش امر ہونا چاہئے لیکن راقم کی رائے کے مطابق پاکستانی حکام کو کبھی کوئی تشویش نہیں ہوا کرتی کیونکہ ان کے محلات محفوظ ہیں اور رحمن ملک کے مطابق "ملک توڑنے والے القاعدہ اور طالبان دہشت گرد" اگر کبھی ملک توڑنے میں کامیاب ہوجائیں تو ملکی حکام اپنے بیرون ملک بنگلے کھلوائیں گے اور اپنے بچوں کے ساتھ آرام کی زندگی بسر کرنا شروع کریں گے۔ رہی عوام کی بات تو حکام کے پاس ان کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں ہے!۔

................

/110