ابنا: ایک دہائی سے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برسر پیکار ہونے کے باوجود دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں کوئی بھی جیل بہتر حالت میں ہے اور نہ ہی کوئی ہائی سیکورٹی جیل ان علاقوں میں قائم کی گئی ہے، جیلیں دہشت گردوں کی نرسریاں بن گئی ہیں جبکہ جیل حکام جیلوں میں موبائل فون جام کرنے میں پی ٹی اے کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے جبکہ گرفتار دہشت گردوں کو عام قیدیوں سے علیحدہ رکھنے کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔
اے این پی کے سینیٹر افراسیاب خٹک کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کو عام بیرکوں میں رکھے جانے کی وجہ سے ان کے دہشت گردوں کی نرسریاں بننے کے زیادہ خدشات ہیں.
انہوں نے کہا کہ حکومت سنجیدہ ہے اور نہ ہی کوئی انسداد دہشت گردی پالیسی مرتب کی گئی ہے جبکہ ایسے مجرموں سے نمٹنے کے لیے کوئی دستور سازی بھی نہیں کی گئی ہے.
جیلوں کے ایشو پر سینیٹ کے حالیہ اجلاس سے خطاب میں انہوں نے حالت زار پر روشنی ڈالی.
صوبہ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ سوات، بٹہ گرام اور ایبٹ آباد (جہاں اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر رہنما روپوش رہے) میں جیلوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ ان علاقوں سے 400 سے 500 بڑے دہشت گرد پکڑے گئے لیکن انہیں ہری پور، بونیر اور تیمرگرہ کی جیلوں میں منتقل کیا گیا.
انسانی حقوق پر سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات قدرت اللہ نے مزید وضاحت کی کہ گرفتار دہشت گردوں کو عام قیدیوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے کیونکہ انہیں علیحدہ رکھنے کے لیے پورے صوبے میں کوئی سیکورٹی جیل نہیں ہے.
دیگر ذرائع سے دی نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہری پور جیل میں القاعدہ سے متعلق کئی افراد قید ہیں اور اس سلسلے میں تباہ کن نتائج کے انتباہ کے باوجودکسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ہے.
انہوں نے کہا کہ جیلوں کو ان کی مخدوش حالت پر بند کیا گیا ہے، کیونکہ زلزلے کے بعد ان کی تعمیر و مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے.
جیل حکام کا کہنا ہے کہ ہائی سیکورٹی جیلوں یا گرفتار دہشت گردوں کے لیے جیلوں میں علیحدہ زونوں کی اشد ضرورت ہے.
جیل حکام کے مطابق عسکریت پسند جیلوں سے موبائل فون کے ذریعے مضبوط نیٹ ورک چلارہے ہیں اور انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججوں کوجیلوں کے اندر سے دھمکی آمیزکالزکی گئی ہیں.
خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیل حکام کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے موبائل فون بلاک کرنے میں خود پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی بڑی رکاوٹ ہے.
بلوچستان کے آئی جی جیل خانہ جات شجاع الدین کاسی نے بریفنگ کے دوران انکشاف کیا کہ کَچھ جیل میں خطرناک عسکریت پسندوں کے قبضے سے سیکڑوں موبائل فون اور سم برآمد ہوئی ہیں جب انہیں بلاک کرنے کے لیے جیمرزکے ٹینڈر دیے گئے تو پی ٹی اے نے شوکاز نوٹس بھیج دیا.
سندھ کے آئی جی جیل خانہ جات نے بھی ایک جیسے ایشوزکا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ جیل حکام کو پی ٹی اے کے دباؤپرجیمرزہٹا لینے پڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز