ابنا: کل دوپہر کو کہا جارہا تھا کہ آج رات تک علی عبد اللہ صالح خلیج تعاون کونسل کی جانب سے پیش کردہ حل پر دستخط کرینگے اور ان کے دستخط کے بعد وہ اقتدار سے الگ ہونگے اور اگلے ساٹھ دنوں میں عام انتخابات کا اعلان کیا جائے گا لیکن یمنی کے صدر نے ایک بار پھر دستخط کرنے میں اپنے تحفظات کو پیش کیا یہ تیسری بار ہے کہ آخری لمحات میں صدر علی عبداللہ صالح دستخط سے پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔گذشتہ ہفتوں جب دستخط میں تاخیر ہوئی تو خلیج تعاون کونسل کے ایک رکن قطر نے ان مذاکرات سے خود کو پیچھے ہٹایا تھا قطر نے کہا تھا کہ اب بہت دیر ہوگئیخلیج تعاون کونسل کی پوری کوشش ہے کہ صدر صالح کو کوئی سیف پیکج ملے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یمنی صدر یا تو تیونس کے بن علی کی طرح ملک سے فرار کرنا چاہتے ہیں یا پھر مصری مبارک کی طرح جیل اور ہوبھی سکتا ہے کہ وہ قذافی کی طرح زنقہ زنقہ کا نعرہ لگاکر گلی گلی قتل عام شروع کردیںمسٹر صالح جو بھی کریں لیکن یہ طے ہے کہ مرحلہ وار عرب ڈکٹیروں کی خیر نہیں موروثی اس نظام کو جانا ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز