8 مئی 2011 - 19:30

آل خلیفہ کی فورسز آل سعود کی قابض فورسز کی مدد سے بحرین کے تمام شہروں اور قصبوں پر حملے کررہی ہیں، چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کررہی ہیں، بچوں اور خواتین کو ہراساں کررہی ہیں اور کئی لوگوں کو اغوا کرکے نامعلوم مقامات پر منتقل کررہی ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کے زیر قبضہ بحرین کا کوئی شہر اور کوئی قصبہ اور گاؤں آل سعود اور آل خلیفہ کے حملوں سے محفوظ نہیں ہے، ان کی مساجد اور حسیینیات شہید کی جارہی ہیں، قرآن جلائے جارہے ہیں، عورتوں اور مردوں کو یکسان طور پر گرفتار کیا جارہا ہے، انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا جارہا ہے، سیاستدانوں کے گھروں کو نذر آتش کیا جارہا ہے، لوگوں کے گھروں میں صوتی بم اور زہریلی گیس کے گولے پھینکے جارہے ہیں مختصر یہ کہ بحرین کے عوام کو بالکل اسی صورت حال کا سامنا ہے جو آل سعود کے آقاؤں کے زیر قبضہ مقبوضہ فلسطین کے مظلوم عوام کو درپیش ہے۔ آل سعود اور آل خلیفہ مغرب، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں، آزاد ابلاغیات کی دعویدار شخصیات اور تنظیموں نیز پانچویں امریکی بحری بیڑے کے جرنیلوں اور امریکی سفارتخانے کی خاتون سفیر اور ان کے عملے کی آنکھوں کے بالکل سامنے ان ڈاکٹروں پر فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے جارہے ہیں جنہوں نے زخمیوں کا علاج کیا تھا، اور اب تو آل سعود اور آل خلیفہ ان ہی کے سامنے مقبوضہ بحرین میں سیاسی جماعتوں کے خاتمے کے لئے نئی غیر انسانی چال چل رہے ہیں اور وہ یہ کہ وہ ان جماعتوں کے تمام راہنماؤں اور مرکزی کرداروں کو اذیتکدوں میں بھجوارہے ہیں تا کہ یہ جماعتیں خود بخود ختم ہوجائیں اور حال ہی میں انھوں نے جمعیۃ العمل الاسلامی کے ساتھ یہی رویہ اپنا رکھا ہے۔کل رات آل خلیفی فورسز نے آل سعود کے قابض گماشتوں کی مدد سے جمعیۃ العمل الاسلامی کے اہم ترین راہنماؤں استاد فہمی عبدالصاحب اور استاد خالد المرہون کو گرفتار کرلیا ہے جو اس جماعت کے مرکزی راہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔اس سے قبل انھوں نے السيد رضوان الموسوي کو گرفتار کرلیا تھا جنہیں دوسرے روز رہا کردیا گیا۔ اسی طرح آل خلیفی فورسز نے قابض آل سعودی فورسز کی مدد سے جمعیۃ العمل الاسلامی کے مرکزی جنرل سیکریٹری علامہ شیخ محفوظ کے گھر پر تین مرتبہ وحشیانہ انداز میں چھاپہ مارا اور ان کے بیٹے حسن، ان کے داماد اور متعدد رشتہ داروں کو اغوا کرکے لے گئے۔ دریں اثناء جمعیت کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری شیخ یاسر عبداللہ الصالح کے گھر پر ایک سے زیادہ مرتبہ چھاپے مارے گئے لیکن وہ گھر میں موجود نہ تھے چنانچہ اب وہ خود بھی اور ان کے بیٹے بھی آل خلیفہ کے کرائے کے جلادوں اور ان کے حامی آل سعودی قابضوں کی طرف سے مطلوبہ ملزمان قرار دیئے گئے ہیں۔ ادھر جمعیت کے مرکزی رکن شیخ ابوہشام کی رہائشگاہ پر ایک سے زیادہ مرتبہ چھاپے پڑے ہیں۔ ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جمعیت کی مرکزی کمیٹی کے سابق اراکین نیز استاد صلاح الخواجہ، استاد جعفر عبداللہ حسن، شیخ حبیب الجمری گرفتار کرلئے گئے ہیں اور ان کے گھروں کو بالکل صہیونی یہودیوں کی مانند درندگی، خونخواری، عناد اور بغض کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے منہدم کردیا گیا ہے۔ سید محمد العلوی، اور جناب سید ہادی الموسوی کو گرفتار کرلیا ہے نیز تبلیغ کے شعبے میں مصروف عمل شیخ عبدالعظیم المہتدی البحرانی سمیت کثیر تعداد میں راہنماؤں اور اہم شخصیات کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسی طرح آل خلیفہ کے کرائے کے ایجنٹوں نے آل سعود کی قابض فوج کی مدد سے جمعیۃ العمل الاسلامی کے اکثر راہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کو مطلوبہ ملزمان قرار دے دیا ہے جنہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت سے جاری ہے جب آل خلیفی حکومت نے جمعیۃ العمل الاسلامی اور جمعیت الوفاق کو کالعدم ڈیکلئیر کیا اور امریکہ کی مخالفت پر اپنا فیصلہ واپس لے لیا جس کے بعد آل خلیفیوں نے آل سعود کی مدد سے جمعیۃ العمل کی خاتمی کی غرض سے اس جماعت کی قیادت کے خاتمے کی پالیسی اپنالی اور اپنی یہ پالیسی جاری رکھ لی۔ بحرین میں گذشتہ چار مہینوں کے دوران آل سعود اور آل خلیفہ نے وہ تمام اعمال انجام دیئے ہیں جو آل صہیون نے آل فرنگ کی مدد سے گذشتہ 60 برسوں کے دوران مقبوضہ فلسطین میں آل اسلام کے خلاف سرانجام دیئے ہیں.بحرین کی اصل صورت حال: 1۔ جمہوریت کا حال یہ ہے کہ آل خلیفہ نامی ایک خاندان اس ملک کے تمام مقدرات پر قابض ہے سیاسی جماعتوں کی بیخ کنی ہورہی ہے اور سیاسی راہنماؤں کو جیلوں میں بند کیا جارہا ہے۔2۔ انسانی حقوق، بچوں کے حقوق، خواتین کے حقوق کا حال یہ ہے کہ انسانیت خون کی آنسو رورہی ہے، عورتیں قتل ہورہی ہیں اور جیلوں میں بند کی جارہی ہیں اور بچے قتل ہورہے ہیں اور ان پر پھانسیوں کی سزائیں مسلط کی جارہی ہیں۔ ڈاکٹروں اور نرسوں پر زخمیوں کے علاج کی پاداش میں فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے جارہے ہیں۔3۔ بحرین میں حکومت سے وابستہ کرائے کے دہشت گرد ـ جو پاکستان، یمن، اردن اور شام سے لائے گئے ہیں ـ عام لوگوں کے بھیس میں لوگوں کے گھروں پر حملے کرتے ہیں، انہیں اغوا کرتے ہیں، ان پر تشدد کرتے ہیں اور ان کی بوری بند لاشیں ان کے گھروں کے سامنے پھینک دیتے ہیں۔4۔ جیلوں میں تشدد کا حال یہ ہے کہ اب تک پانچ نامور افراد تشدد کے نتیجے میں شہید ہوگئے ہیں۔یہ سب ہونے کے باوجود امریکی اور یورپی میڈیا خاموش، امریکی اور یورپی انسان دوستی خاموش، امریکی اور یورپی جمہوریت پسندی خاموش، انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق اور بچوں کے حقوق پامال ہورہے ہیں لیکن ایک بلی یا کتے کی ہلاکت کے لئے جلوس نکالنے والی امریکی اور مغربی تنظیمیں خاموش ہیں۔ اور تو اور امریکہ کے گھر کی لونڈی یعنی وہی اقوام متحدہ تین ماہ گذرنے کے باوجود ایک اجلاس بھی منعقد کرنے سے عاجز ہے۔اہم بات یہ ہے کہ امریکہ یورپ جمہوریت اور انسانی حقوق کے نعرے تو لگاتے ہیں لیکن بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی اعلانیہ پامالی پر امریکی اور یورپی میڈیا بالکل خاموش ہے اور بحرین میں جرائم پر امریکہ اور یورپ کے تمام متعلقہ شعبوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور منامہ میں امریکی "سفیرنی" نے تو یہاں تک کہا ہے کہ انہیں بحرین انسانی حقوق کی میں کسی قسم کی خلاف ورزی نظر نہیں آئی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

- بحرینی اقتدار اعلی پر آل سعود کا قبضہ ہو چکا ہے؛ پارلیمان میں آل سعود کا جھنڈا

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز

 بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت

پلیز

الاستاذ فهمي عبدالصاحب

 الاستاذ خالد مرهون

 

السيد رضوان الموسوي

الشيخ أبو هشام