6 مئی 2011 - 19:30

پاکستانی اسٹبلشمنٹ کی طرف سے تنقید کی وجہ سے جنرل پاشا کسی بھی وقت استعفیٰ دے سکتے ہیں۔

ابنا: نیوز ویک کی سائٹ ’دی ڈیلی بیسٹ‘ کے مطابق بن لادن کے معاملے پر جنرل پاشا عہدہ چھوڑتے نظر آرہے ہیں۔اخبار نے اعلیٰ حکام کے حوالے سے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک اہم سر براہ جانے کو ہے اور قوی امکان پاشا کے جانے کا ہے۔امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کی جاسوس ایجنسی اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں ناکامی یا امریکی حملے میں اس کی ہلاکت پر غیر معمولی عوامی تنقید کا سامنا کر رہی ہے اور اس کے موٴثر اور طاقتور سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شجاع احمد پاشا پر دباوٴ ڈال رہی ہے کہ وہ ذمہ داری قبول کر کے استعفیٰ دیں۔اخبار کے مطابق امریکی آپریشن کے نتیجے میں پاکستان کی سب سے اعلیٰ ترین خفیہ ایجنسی پرتنقید سے قومی اعتماد کو دھچکا لگنا ایک ڈرامائی تبدیلی ظاہر کرتا ہے ۔چوہدری نثار کی طرف سے کسی اعلیٰعہدے دار کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے استعفیٰ کا مطالبہ آیا،حکومت نے اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی،ہلاکت اور امریکی حملے کی تحقیق شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔تاہم اس معاملے پر آئی ایس آئی نے کوئی بات نہیں کی۔اگرچہ جنرل پاشا نے امریکی دباوٴ کامقابلہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔اب سی آئی اے کی طرف سے ڈرون حملوں میں اضافے اور ہلاکتوں کے بعد آئی ایس آئی نے امریکا کے ساتھ تعاون پر نظرثانی شروع کردی ہے۔ امریکی حکام کی طرف سے جنرل پاشا پر افغانستان میں عسکریت پسندوں کی مد دکرنے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔آئی ایس آئی القاعدہ یا طالبان کے ساتھ تعاون کے تمام مبینہ الزامات کی تردید کرتی ہے۔امریکی اخبار کے مطابق جنرل پاشا کی پوزیشن اب محفوظ نہیں ہے،جنرل پاشا کی قسمت پر اثرانداز ہونے میں عوامی غصے سے زیادہ فوج کے بااثر اعلیٰجنرلوں اور کور کمانڈروں کی مایوسی ہے۔امریکی دفاعی حکام کے مطابق پاکستان کے کور کمانڈرز غصے میں ہے اورسوال کرتے ہیں کہ جو کچھ ہوا اس کے بارے کوئی آگاہ تھا۔ بھارتی نشریاتی ادارے نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا اپنا عہدہ چھوڑ سکتے ہیں۔  ..........

/110