6 مئی 2011 - 19:30

واقع ہزارہ ٹاؤن کے میدان میں صبح کے وقت شیعہ نوجوان فٹ بال کھیل رہے تھے جبکہ کچھ لوگ قریبی قبرستان میں فاتحہ خوانی میں مصروف تھے کہ اچانک مسلح دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ اور دھماکے کرکے آٹھ افراد کو شہید اور پندرہ کو زخمی کردیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں مغربی بائی پاس کے قریب واقع ہزارہ ٹاؤن کے میدان میں صبح کے وقت شیعہ نوجوان فٹ بال کھیل رہے تھے جبکہ کچھ لوگ قریبی قبرستان میں فاتحہ خوانی میں مصروف تھے کہ اچانک دو پک اپ گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گرد وہاں پہنچے اوراندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ اس دوران تین دھماکے بھی ہوئے، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد شہید اور پندرہ زخمی ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق فائرنگ اور دھماکوں کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔ شہید اور معمولی زخمیوں کو بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال جبکہ شدید زخمیوں کو سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا۔ "معمول کے مطابق" واقعے کے بعد پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔دوسری جانب مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے بائی پاس روڈ ٹائر جلا کر بلاک کردی۔ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف گرینڈ آپریشن کا مطالبہ کیا ہے جبکہ سینئر شیعہ راہنما علامہ سید ساجد نقوی، شیعہ علماء کونسل بلوچستان اور بلوچستان شیعہ کانفرنس نیز پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی جانب سے بھی سانحہ ہزارہ ٹاؤن کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ "پولیس چوکی کے قریب!" ہونے والے اس افسوس ناک واقعے کی ذمہ داری بھی معمول کے مطابق کالعدم دہشت گرد ٹولے لشکرجھنگوی نے قبول کرلی ہے۔ ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے "بھی معمول کے مطابق" واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا جبکہ شہر میں مساجد اور امام بارگاہوں کے باہر "بھی معمول کے مطابق" سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔  اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کی طرف سے خون کی ہولی کھیلتے ہوئے اس موقع پر سیکورٹی اداروں کا کوئی اہلکار موجود نہ تھا۔دوسری جانب کوئٹہ کے ڈپٹی چیف کمیشنر کیپٹن ریٹائر طارق کا کہنا تھا کہ پولیس کے اہلکار وہاں‌ پر گشت کررہے تھے جو کہ "عذر گناہ بدتر از گناہ" کا مصداق ہے اور ڈپٹی کمشنر کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ اگر پولیس کے اہلکار وہاں‌ پر گشت کررہے تھے تو انھوں نے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا اور دہشت گردوں کو جواب کیوں نہیں دیا؟۔رپورٹ کے مطابق بائی پاس کے دونوں جانب سیکورٹی چیک پوسٹس موجود ہیں یہ گاڑیاں ان پوسٹوں سے گذر کر علاقے میں داخل ہوئیں اور دہشت گردانہ کاروائی کرکے بھاگ گئیں جو کہ سیکورٹی اداروں‌ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

- بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت