ابنا: نتن یاہوایسےحالات میں یورپ کےدورےپرروانہ ہوئےہيں کہ جب تل ابیب کےحکام اسرائیل کی غاصب حکومت کی تشکیل کےبعد سےاب تک کبھی بھی اس قدر درماندہ نہيں ہوئےتھے۔ صیہونی حکام تمام جرائم اورتوسیع پسندانہ کاوائیاں امریکہ اورسامراجی حکومتوں کی حمایت سےانجام دیتےرہےہیں لیکن مشرق وسطی کی حالیہ تبدیلیاں اورابھی حال ہی میں تحریک حماس اور فلسطینی انتظامیہ کےدرمیان ہونےوالی مفاہمت نےمشرق وسطی کےعلاقےکےسیاسی حالات کودگرگوں کردیاہے۔امریکہ اوریورپی حکومتیں مشرق وسطی کےحالات کوکنٹرول کرنےکی صلاحیت کھوچکی ہیں۔صیہونیوں نےبرطانیہ اورپھراس کےبعدامریکہ اورفرانس جیسی دوسری یورپی حکومتوں کی حمایت ومدد سےفلسطین پرقبضہ کیااوراسرائیل نام کی جعلی اورغاصب حکومت تشکیل دی۔لیکن اب مشرق وسطی میں مغربی ممالک کی آلہ کارآمرحکومتوں کےخلاف شروع ہونےوالی تحریکوں کی بناپر وہ،علاقےکےممالک اورفلسطینی عوام پراپنی پالیسیاں مسلط کرنےکی صلاحیت کھوچکی ہيں۔ان تحریکوں کاپہلانتیجہ یہ نکلاہےکہ حکومت مصر نےامریکہ اور صیہونی حکومت کی مخالفتوں کےباوجود رفح پاس کھولنےکااعلان کرکےغزہ کامحاصرہ ختم کردیاہے۔حکومت مصرنے تحریک حماس اور فلسطینی انتظامیہ کےدرمیان صلح کراکےدوسراکامیاب قدم اٹھایاجس نےصیہونی وزیراعظم نتن یاہو کوآگ بگولا کردیااورانھوں نےامریکہ سےفلسطینی انتظامیہ کی امداد فورا بندکردینےکامطالبہ کردیا۔موجودہ حالات اوراپنےمفادات کےمدنظریورپی حکومتوں نےیہ سمجھ لیاہےکہ صیہونی حکومت کےساتھ اپنےتعلقات میں تبدیلی پیداکرناچاہئےاوراس تبدیلی کوبعض یورپی حکمرانوں کےبیانات میں دیکھاجاسکتاہے۔ایک فرانسیسی رہنمانےاس نکتےکی جانب اشارہ کیاہےکہ فرانس فلسطینی حکومت کوتسلیم کرنےکےسلسلےمیں اپنےیورپی شرکاء سےصلاح ومشورہ کرےگاجبکہ اقوام متحدہ ستمبرکےمہینےمیں فلسطین کےموضوع پر بحث کرائےگی۔ مشرق وسطی میں تیزی سےرونماہونےوالی تبدیلیوں کےپیش نظرامریکہ ، اورصیہونی حکومت کی حامی یورپی حکومتیں اب خودمختار وآزاد فلسطینی حکومت کی تشکیل نہيں روک سکتیں۔ اوراسی بناپربرطانوی اورفرانسیسی حکام نتن یاہو سےملاقات میں فلسطینی مملکت کی تشکیل کےعمل کوروکنے کاوعدہ کرنےکی طاقت نہيں رکھتے۔ ............/169
2 مئی 2011 - 19:30
News ID: 239733
صیہونی وزیراعظم نتن یاہو، بیت المقدس کودارالحکومت قراردیتےہوئے فلسطینی مملکت کی تشکیل رکوانےکےلئےلندن پہنچ گئےہيں۔صیہونی وزیراعظم برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون سےملاقات کےبعدفرانس کےصدرنیکلاسرکوزی سےملاقات کےلئےفرانس روانہ ہوجائيں گے۔