ابنا: مضمون نگار کا کہنا ہے کہ اس ہفتے میں بحرینی مسئلے کے سیاسی حل کے لئے کچھ حرکت نظر آئی لیکن ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ہر قسم کی کامیاب کوشش کو آل سعود کے دروازے ہی گذرنا ہوگا.
عالمی سطح پر اس وقت بحرینی مسئلے کے حل کے لئے تمام اطراف سے کوشش ہورہی ہے کیونکہ دنیا کو اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان واقعہ اس ملک میں جاری مسائل کہیں خطے کو خطرناک آگ سے دوچار نہ کرے ۔مضمون نگار کا کہنا ہے کہ لیکن یہاں ہر وہ کوشش ناکام نظر آتی ہے جو سعودیہ کی مرضی کے بغیر کی جائے یہی وجہ ہے کہ اس وقت یورپ امریکہ کویت قطر اور ترکی مسلسل سعودی عرب جا آ رہے ہیں ۔مضمون نگار کے مطابق بحرینی حزب اختلاف کی ایک باخبر شخصیت کاکہنا ہے کہ بحرین کی سب سے بڑی جماعت الوفاق پر پابندی کو روکنے کے سلسلے میں برطانیہ نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ حزب اختلاف یورپی اتحاد کی وزیر خارجہ کتھرین اشتون کی کوششوں پر زیادہ انحصار کر رہیں کہ جس نے اپنے ڈپلموٹیک سفر کا آغاز سعودیہ سے کیا ہے اور پھر انہوں نے بحرین جانا ہے ۔مضمون نگار اضافہ کرتے ہیں کہ فرانس ،جرمنی اور اٹلی برطانیہ کی قیادت کے ساتھ یہ خیال رکھتے ہیں کہ الوفاق جیسی جماعت پر پابندی کا مطب یہ ہوگا کہ بحرین کی سڑکوں پر خانہ جنگی کے مناظر نظر آئیں ۔الوفاق کے ساتھ برطانوی سفیر کی چالیس منٹ ملاقات کے بعد برطانوی سفیر جیمی بوڈن نے بحرینی حکومت کی جانب سے مظاہرین پر تشدد سے کام لینے کے حوالے سے اپنی جانب سے سخت غصے کا اظہار کیا ۔مضمون نگار کہتا ہے کہ برطانوی سفیر ے حزب اختلاف سے سوال کیا کہ کون اس تشدد اور قتل عام کے پیچھے ہے ؟انہیں جواب ملا کہ بحرینی رائل کورٹ کے صدر خالد بن احمد اور سعودی وزیر داخلہ نایف ۔حزب اختلاف نے برطانوی سفیر کو خبردار کیا کہ اگر بحرین کا مسئلہ جلدی حل نہ ہوا تو پھر ہم آئندہ کی کوئی ضمانت نہیں دیتے اور یاد رکھیں کہ اس وقت باوجود قتل عام کے مظاہرین پر امن ہیں تو یہ ہماری وجہ سے ہے اس ملاقات کے آخر میں حزب اختلاف نے برطانوی صدر کے نام ایک خط بھی دیا جس میں عالمی خاموشی اور انسانی حقوق کی پامالی جیسے موضوعات مندرجہ تھے ۔مضمون نگار کے مطابق یورپی اتحاد کی وزیر خارجہ کا دورہ بھی در حقیقت اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جسے اپنی کوششوں پر مکمل یقین ہےلیکن سعودی عرب ان یورپی کوششوں سے سخت ناراض نظر آتا ہے جس کی ایک جھلک گذشتہ دنوں خلیج تعاون کونسل میں بھی نظر آیا کہ وہاں کہاگیا کہ خلیجی ممالک بیرونی کوششوں سے زیادہ بہتر طور پر اپنے مسائل حل کرسکتے ہیںمضمون نگار کہتا ہے کہ جہاں تک امریکی کوششوں کی بات ہے تو اس کے باوجود کہ امریکی آل خلیفہ پر بہت زیادہ اثر رسوخ رکھتے ہیں لیکن حزب اختلاف امریکیوں پر اعتماد نہیں کرتی جس کی ایک بڑی مثال یہ ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ کے ایڈوائزر جیفری فلٹمن نے حزب اختلاف سے ملاقات کی تو اس وقت ان سے الوفاق کے مستعفی شدہ وزیر خلیل مرزوق ملے اور سیکرٹری جنرل علامہ علی سلمان اس ملاقات میں شامل نہیں ہوئے جس کی بنیادی وجہ امریکیوں کی وہ پالیسی ہے جس سے بحرینی عوامی تحریک کو نقصان پہنچا ہے ،اس ملاقات میں حزب اختلاف نے امریکیوں سے اپناشدید احتجاج کیا کہ اس نے آل خلیفہ کو سیاسی شٹل فراہم کیا ہے کہ وہ عوام کا قتل عام کرے الوفاق کے وزیر نے مزید کہا کہ جو کچھ یہاں ہورہا ہے اس میں امریکہ برابر کا شریک ہے ،وزیر نے یہ بات واضح کردی کی کسی قسم کی گفتگو نہیں ہوسکتی جب تک مطالبات نہ مانے جائیں اور ہرقسم کی گفتگو سے پہلے اس کے قوانین تشکیل دیے جانے چاہیں اس ملاقات میں امریکیوں کو یہ بات ناگوار گذاری کہ حزب اختلاف اب بھی اپنے پرانے مطالبے یعنی آئینی بادشاہت پر قائم ہے کہا جاتا ہے کہ آئینی بادشاہت کی مخالفت بحرینی حکومت سے زیادہ سعودی حکومت کو پسند نہیں کیونکہ انہیں اپنی بھی فکر ہے ۔کہا جاتا ہے کہ کویتی کوششوں کو اس لئے ناکامی ہوئی کہ وہ کوششیں سعودی اجازت کے بغیر انجام پارہیں تھیں اور اس سے سعودیہ ناراض نظر آرہا تھا اور کویت سعودی عرب سے ڈرتا ہے کہ کہیں اس کی مخالفت کی وجہ سے خود کویت کے حالات خراب نہ ہوں ۔مضمون نگار آخر میں کہتا ہے کہ قطر بھی اس مسئلے میں کوئی کردارادا نہیں کرسکتا کیونکہ آل خلیفہ اور آل ثانی کے درمیان پرانی رنجش دور نہیں ہوئی اور دوسری جانب سعودی عرب اس مسئلے میں شامل ہے جو کہ کسی طور بھی قطر کے لئے ناقابل برداشت ہے ۔
﴿ترجمہ ع صلاح ماہر امور مشرق وسطیٰ ایم ڈبلیو ایم میڈیا سیل﴾