ابنا: اسلام آباد سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے صدر سینیٹر اقبال حیدر نے جوعلالت کی وجہ سے اسلام آباد میں پاراچنار کے شہریوں کے مظاہرے میں شرکت نہ کرسکے ، اپنے پیغام میں مظاہرہ کرنے والوں سے معذرت خواہی کرتے ہوئے کہا کہ میں شرمندہ ہوں کہ پاراچنار کے مظلوم عوام پر طالبان کے مظالم کے خلاف اب تک آواز بلند نہ کرسکا۔ انہوں نے حکومت کی بے حسی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور بین الاقوامی اداروں سے درخواست کی کہ طالبان کے ان مظالم کو روکنے کے لئے کہ جو پاراچنار کے مظلوم شیعوں پر چار سال سے روا رکھے گئے ہیں فوری اقدام کرے تاکہ پاکستان کے اس علاقے میں غیر انسانی اقدامات کا راستہ روکا جائے ۔ واضح رہےکہ پاکستان کے قبائلی علاقے پاراچنار کے شیعہ مسلمانوں کے خلاف طالبان کے جرائم اور دہشت گردانہ اقدامات پر حکومت بدستور خاموش ہے۔ اسلام آباد سے ہماری پشتوسروس کے نمائندے نے خبردی ہے کہ پاراچنار کے شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے خلاف ہونےوالے طالبان کے مظالم پر احتجاج کرنے کی غرض سے گذشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد میں پرامن مظاہرے اور بھوک ہڑتال کررہے ہيں خبروں میں بتایا گیا ہے کہ کئی دن گذر جانے کے بعد ابھی بھی پاکستان کا کوئی بھی عہدیدار ان کی بات سننے ان کے پاس نہيں آیا جب کہ بھوک ہڑتال اور احتجاجی اجتماع قومی اسمبلی اور پریس کلب کے سامنے ہی ہورہا ہے ۔ اس درمیان یہ بھی اطلاعات ہيں کہ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے ذرائع ابلاغ سے کہا ہے کہ وہ پاراچنار کی خبروں کو نشر نہ کریں ۔ پاراچنار کے مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کے عہدیداروں نے ان کی بات نہ سنی تو آئندہ پیر کو اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کریں گے یاد رہے پاکستان کے مقامی طالبان نے گذشتہ چار برسوں سے پاراچنار کے علاقے کا محاصرہ کررکھا ہے جہاں کے لوگوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور ان کے پاس اپنے مریضوں کے علاج کے لئے طبی سہولیات اور دواؤں کا مکمل فقدان ہوگیا ہے ۔ پاراچنار کے شہریوں کو اپنی ضرورت کی اشياء کی خریداری کے لئے اگر پشاور جانا ہوتا ہے وہ پہلے افغانستان جاتے ہیں اور پھر وہاں سے وہ پشاور آتے ہیں ۔ گذشتہ چار برسوں کے دوران طالبان نے ایسے مسافروں پر بھی دہشت گردانہ حملے کرکے دسیوں کو شہید کردیا ہے جو افغانستان کے راستے پشاور جارہے تھے ۔ پاراچنار کے باشندوں کا کہنا ہے کہ ان پر طالبان دہشت گردوں کے حملے فوج اور انٹلیجنس کے اداروں کے بعض حلقوں کی حمایت سے انجام پارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
/110