20 اپریل 2011 - 19:30

سعودی عرب کے شہر قطیف کے گورنر نے علماء سے اپیل کی ہے کہ سعودی عوام کو مظاہروں سے منع کریں کیونکہ سعودی حکومت کسی صورت میں بھی ان کے مطالبات منظور نہیں کرے گی۔

ابنا: العثمان نے اس بات کی اپیل قطیف کے مختلف علماء کے ساتھ ایک ملاقات میں کی ہے۔

العثمان کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے دباﺅ میں آکر ہم مطالبات منظور کرنے والے نہیں ہیں۔

العثمان کاکہنا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کے بعض مطالبات قابل فہم نہیں ہیں۔الرصد ویب سائٹ کے مطابق العثمان جوکہ قطیف کے علماءسے ملاقات کی غرض سے آیا ہواتھا بار بار اس بات پر زرو دے رہاتھا کہ احتجاج نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے بہت سے شہروں خاص کر قطیف سٹی میں گذشتہ چند ماہ سے مسلسل احتجاج ہورہا ہے احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ سولہ سال سے بغیر کسی مقدمے کے قید قیدیوں کو رہا کیا جائے ،آزادی رائے دی جائے اور مذہبی آزادیوں کا احترام کیا جائے اور چیک پوسٹوں پر تفتیش کے نام سے ہونے والے امتیازی سلوک اور توہین آمیز رویے کا خاتمہ کیا جائے ۔سعودی عرب پہلے سے ہی خطے میں جاری عوامی بیداری کی لہر سے شدید گھبرایا ہوا ہے اور اپنے ہی ملک میں بڑھتے ہوئے احتجاجات اور دبے دبے لفظوں میں انٹیلیکچولز کی جانب سے تبدیلی کی بات نے مزید جلتی پر تیل کا کام کیا ہے-اس ملاقات میں سعودی عرب میں اہل تشیع کے بزرگ علمائے کرام جیسے علامہ حسن صفار اور علامہ عبد اللہ خنیزی بھی شامل تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110