اے جذبہ دل۔۔۔۔
سید اسد عباس تقوی
بلاشبہ ہم نے ناگفتہ بہ حالات میں پاکستان حاصل کیا ،جو برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک اہم کارنامہ تھا۔ ہم نے مفلوک الحالی کے باوجود اپنی معیشت کے پہیے کو چلائے رکھا جو اپنی نوعیت کا ایک عظیم معجزہ تھا۔ہم نے اپنے سے تین گنا بڑے دشمن سے ۵۶ کی جنگ جیتی جسے فضل الہی اور قوم کا جذبہ ایثارہی کہا جا سکتا ہے۔ ہم نے ایٹمی قوت حاصل کی جسے کسی بھی طرح ہماری سائنسی ترقی سے محبت پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ اگر بھارت یہ ٹیکنالوجی استعمال نہ کرتا تو شاید ہم بھی کبھی اس کے حصول کے درپے نہ ہوتے۔
آخر ایسا کیوں ہے کہ ہماری تمام تر کامیابیاں کسی نہ کسی جذباتی سبب سے ہوتی ہیں ؟ہم نارمل اقوام کی ماننداپنی قومی زندگی کا لائحہ عمل کیوں نہیں بنا سکتے؟اپنی زندگی کی راہ متعین کرنے میں ہمیں ہمیشہ کسی لالچ، خوف یا عصبانیت کا سہارا کیوں لینا پڑتا ہے؟ کرکٹ کا میدان ہو یا میدان جنگ نہ صرف ہم بلکہ بھارتی عوام بھی دیوانہ وار جذباتیت کی رو میں بہتے ہوئے دنیا و مافیہا سے بے خبر دھت نظر آتے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بس اسی معرکے پر ہماری زندگیوں کا انحصار ہے۔اگر کرکٹ میچ ہو تو ہم یہ سمجھتے ہیں جیسے ہماری زندگی کا آخری میچ ہے ۔اگر میدان جنگ ہو تو ہمارا خیال ہوتا ہے کہ بس یہی آخری معرکہ ہے ،جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری ہار یا جیت کے باوجود زندگی کاپہیہ اپنی سی رفتار سے گھومتا رہتا ہے۔آپ ایک میدان کی بات کرتے ہیں یہاں تو اقوام کے مٹ جانے کے باوجود زندگی نہیں تھمتی۔سوال تو یہ ہے کہ آخر ایسا کب تک؟ آسٹریلیا بھی تو دنیا ئے کرکٹ کا فاتح تھا۔اس ٹیم کو تسخیر کرنا ہر ٹیم کا خواب ہی رہا ۔ یہاں تک کہ ٢٠١١ کے ورلڈ کپ میں اس فاتح کو بھی میدان چھوڑنا پڑا ۔ لیکن ہم نے نہیں دیکھا کہ آسٹریلوی شائقین نے کسی غیر ضروری ناگواری کا اظہار کیا ہو۔ اس رویہ کی ایک ہی وجہ میری سمجھ میں آتی ہے کہ شاید وہ لوگ ہماری طرح جذباتی نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک میدان میں ہارنا کوئی معنی نہیں رکھتا ، ان کی آنے والی ٹیم ایک نئے ولولے کے ساتھ میدان میں اترے گی اور کھیل کا سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ واضح انداز میں کہوں تو اس ہارنے اس قوم کو کوئی ذہنی کمپلیکس نہیں دیا،جیسا کہ ہماری اقوام اس قسم کے مواقع کے بعدایسے ذہنی مخمصوں کا شکار ہو جایا کرتی ہیں۔میں جذبہ حب الوطنی اور ملی عصبانیت کا قطعا بھی مخالف نہیں ہوں۔ان دونوں اوصاف کے اپنے اپنے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ تاہم ان کا استعمال کرتے ہوئے اعتدال کا دامن ہاتھ سے دینا کوئی دانش مندی نہیں۔کرکٹ کے سیمی فائنل کے لیے سرکاری سطح پر تعطیل یا نیم تعطیل کا اعلان، پرچوں کی منسوخی، کاروبار کی بندش کون سی حب الوطنی اور دانش مندی ہیں۔ کیا ان اقدامات کے ذریعے ہم دنیا کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ جذبات کی آڑ میں ہم سے کوئی بھی کام با آسانی لیا جاسکتا ہے۔کیا ہم یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہمارا جذبہ حب الوطنی اسقدر سطحی نوعیت کا ہے۔قومی لحاظ سے ہمارا شعور اتنا بھی پختہ نہیں ہوا کہ ہم اپنے حقیقی فائدے اور نقصان کا ادراک کر سکیں۔جن مقامات اور مواقع پر جذبہ حب الوطنی اور ملی عصبانیت کا استعمال ضروری ہوتا ہے وہاں ہم یوں مست نظر آتے ہیں جیسے کچھ بگڑا ہی نہیں۔ ثقافتی میدان کو ہی لے لیجیے۔ ہمارے معاشرے میں انگریزی و ہندو ثقافت کا دور دورہ ہے، ہر گھر میں انگریزی اور ہندی فلمیں دیکھی جارہی ہیں، سٹار پلس کے ڈرامے چل رہے ہیں، بالی ووڈ کے گانے ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی ارواح کی غذا بن رہے ہیں یہاں تو ہماری ملی عصبانیت بیدار نہیں ہوتی۔زبان غیر میں کلام کو ہم اپنا افتخار جانتے ہیں یہاں تو ہمارا جذبہ حب الوطنی بیدار نہیں ہوتا۔درآمد کی ہوئی چیزوں کو استعمال کر کے ہم یوں اتراتے ہیں جیسے ہمارے بابا کی ایجاد ہے۔غیروں کاملبوس ، انداز رہن سہن اپنا کر ہماری ملی عصبانیت کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچتی۔ذرا اپنے ارد گر د غور فرمائیے آپ کے استعمال میں کون سی ایسی چیز ہے جسکے پاکستانی الاصل ہونے پر آپ کو فخرہے۔ مجھے کہنے دیجیے ہمارا جذبہ حب الوطنی اور ملی عصبانیت ایک فریب اور سراب کے سوا کچھ نہیں۔اس شعوری سطح کے ساتھ ہم دنیا کی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اقوام کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں جو بقول شاعر:
ایں خیال است و محال است و جنوں
بھارت کے عوام کی بھی عمومی شعوری سطح اسی طرح کی ہے۔ تاہم زبان اورثقافت کے معاملے میں انہوں نے جس قدر ملی عصبانیت کا مظاہرہ کیا ہے قابل ستائش ہے۔ان کا یہ وطیرہ آج کا نہیں، چاہے ہندوستان پر عربوں نے حکومت کی یا عجموں نے ہند کے باسیوں نے اپنی سنسکرت کو زندہ رکھا۔اسی سنسکرت نے ان کا رشتہ ہند کی عظیم تہذیب سے جوڑے رکھا۔ہندوستان کے ترقی کی جانب طے کیے جانے والے زینوں کو اگرچہ ہم قابل اعتناءنہ جانیں تاہم آنکھیں بند کرنے سے حقائق بدل نہیں سکتے۔ہم نے جب بھی ان سے اپنا موازنہ کیا تو عسکری طاقت اور شجاعت کے میزانوں کو سامنے رکھا۔ ہم نے کبھی نہ دیکھا کہ یہ ملک ثقافتی، سائنسی، تکنیکی اورسیاسی میدان میں ہم سے کس قدر آگے جا چکا ہے۔ آج ہندوستان کی فلمیں دنیا کے کتنے ہی ممالک میں ترجمہ کرکے دکھائی جاتی ہیں۔ ایشیا میں چین اور جاپان کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کی سب سے بڑی کھیپ انڈیا میں تیار کی جا رہی ہے۔عالمی منڈیوں میں انڈیا کے ہنر مند ہاتھ ہماری نسبت بہت بڑی تعداد میں مصروف کار ہیں۔ مجھے عرب امارات جانے کا اتفاق ہوا تو یہ جان کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ عربوں کے بعد ان امارات میں سب سے زیادہ تعداد ہند کے باسیوں کی ہے۔ اعلی عہدوں سے لے کر ہنر مند مزدوروں تک آپ کو ہر دوسرا فر د ہندوستانی نظر آئے گا۔ شارجہ کا میدان رولا جسے ہم پاکستانی راجہ بازار کہتے تھے ملواریوں سے یوں کھچا کھچ بھرا پڑا ہے جیسے صحرا میں ریت۔ہندی کھانے ، ہندی فلمیں، ہندی لباس عرب دنیا میں عام ہے۔سنا ہے کہ ہند کے باسی دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اسی طرح سے اپنی ہنر مندی اور ذہانت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ناسا کے خلائی منصوبے ہوں یا امریکی ہسپتال، انگلستان کا ایوان زیریں ہو یا کاونٹیز کی سربراہی ہر جگہ ہندوستانی نظر آتے ہیں۔جوش رقابت میںہم نے ہمیشہ ان کے ملک میں پائے جانے والے سیاسی ، معاشی اور اقتصادی مسائل کا ڈھنڈورا پیٹا۔ ایک جانب وہاںذات پات کا نظام ہے تو دوسری جانب معاشرے میں بڑھتی ہوئی معاشی خلیج، کبھی ہمیں کشمیرکی ریاستی دہشت گردی نظر آتی ہے تو کبھی خالصا تحریک کے نواقص ۔ ان مسائل کی شدت اور حقیقت اپنی جگہ تاہم یہ بات ماننی پڑے گی کہ ان گوناگوں مسائل کے باوجود ہندوستان کا زندگی کے ہر میدان میں ترقی کرنا واقعا لائق تحسین ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نے اگر اس دشمن کی برابری کرنی ہے اور اس کے سامنے اپنے وقار کو قائم رکھنا ہے تو ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی اصلاح کرنی ہو گی۔ فقط فوجی برتری کوئی برتری نہیں، قومیں فقط فوجی طاقت اور شوق شہادت سے نہیں چلتیں۔ ان چیزوں کی اہمیت اپنی جگہ تاہم ان کے استعمال کا ایک مخصوص میدان ہے ، جس سے باہر کی دنیا بہت وسیع و عریض ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110