13 اپریل 2011 - 19:30

آل خلیفہ درندوں نے اعلان کیا ہے کہ عبدالکریم الفخراوی بیماری کی وجہ سے پولیس حراست میں انتقال کرگئے ہیں لیکن شہید کی تصویریں خود ہی بہتر انداز سے آل خلیفی دعؤوں کی قلعی کھول سکتی ہیں دیکھئے اور فیصلہ کیجئے:

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شہید فخراوی کی شہادت کے بعد آل خلیفہ خاندان کے درندہ صفت حکمرانوں نے ان کے خاندان کو سختی سے منع کیا تھا کہ وہ کسی صورت میں بھی شہید کا جسم روزنامہ نویسوں کے لئے نہ کھولیں اور کسی صورت میں بھی ان کی تصویریں بنانے کی اجازت نہ دیں۔ چنانچہ شہید کے بھائی نے روزنامہ نویسوں کو لاش کے قریب آنے سے منع کیا تھا اور آل خلیفہ کی طرف سے دھمکیوں اور انتقام کے خوف سے انھوں نے حتی شہید کی اہلیہ کو بھی ان کا آخری دیدار کرنے سے منع کیا تھا لیکن بحرین کے انقلابی نوجوانوں لاش مسجد سے نکلتے ہی ان کے بے جان جسم کو اپنے قبضے میں لیا اور ان کے بھائی اور دیگر افراد کو دور کرکے شہید کا کفن ان کے جسم سے ہٹایا اور آزار و اذیت و تشدد کے اثرات کی تصویریں بنا کر انٹرنیٹ پر نشر کردیں۔ شہید کے بھائی نے نوجوانوں سے التجاء کی کہ وہ تصویریں نشر نہ کریں کیونکہ ایسی صورت میں ان کے خاندان کو مزید مشکلات کا سامنا پڑ سکتا ہے کیونکہ حکومت نے انہیں پیشگی ڈرایا دھمکایا ہے لیکن نوجوانوں نے تصاویر لینے اور نشر کرنے کی ذمہ داری خود قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کی بات ماننے سے معذرت کرلی. شہید کی چند تصویریں:

یہ شہید فخراوی کی تصویریں ہیں جو ایک خوشحال تاجر بھی تھے اور ایک نہایت ہنس مکھ اور خوش اخلاق انسان بھی تھے۔ انہیں دنیا کی اس واحد حکومت نے تشدد کرکے قتل کیا جو اپنے ہی ملک میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کی نیت سے مسجدیں ویران کرتی ہے اور امامبارگاہوں کی بے حرمتی کرتی ہے۔ وہ حکومت جو اپنے بیرونی غنڈوں کے ذریعے سنی مسلمانوں کی عبادتگاہیں بھی منہدم کرواتی ہے اور پھر اس عمل کو فرقہ وارانہ اختلاف کا شاخسانہ قرار دیتی ہے؛ کھیتیاں برباد کرتی ہے اور نسلوں کو موت کی گھاٹ اتارتی ہے۔ ایک حدیث میں حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ "الملک یبقی مع الکفر و لایبقی مع الظلم: حکومتیں کافر ہوں تو وہ باقی رہ سکتی ہیں لیکن ظالم ہوں تا فانی ہوجاتی ہیں"۔ بے شک آل خلیفہ اور آل سعود کی یادیں محفوظ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ حکومتیں بقاء کے تمام امکانات کو مٹا چکی ہیں اور بہت جلد تاریخ گذشتہ کا حصہ بننے والی ہیں۔  کیونکہ ظلم و جبر اور نا انصافی کا نتیجہ نابودی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

شہادت سے پہلے

 || /

شہادت کے بعد

||/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110