9 اپریل 2011 - 19:30

مسلم علما کی عالمی یونین کے سربراہ شیخ یوسف قرضاوی: عرب ملکوں میں جو عوامی تحریکیں جاری ہیں وہ ایک بڑی نعمت ہے / بحرینی انقلاب فرقہ واریت کا فتنہ ہے / شام میں اہل سنت کو بغاوت کرنی چاہئے!!!.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی – ابنا – کی رپورٹ:

ریڈیو تہران کی ویب سائٹ نے لکھا:شیخ یوسف قرضاوی نے قطر میں اپنے ایک بیان میں ان علما پر تنقید کی جو ان تحریکوں اور انقلابات کی مخالفت میں فتوی دے رہے ہيں شیخ قرضاوی نے کہا کہ جو علما عوامی مظاہروں اور تحریکوں کی حرمت پر فتوی دیتے ہيں وہ نہ صرف یہ کہ نادان ہيں بلکہ قرآن وسنت کو بھی انہوں نے درک نہيں کیا ہے شیخ قرضاوی نے کہا کہ اس طرح کے علماء منافقت کرتے ہيں اور وہ محض اپنی حکومتوں کو خوش کرنے کے لئے اس طرح کے فتوی دیتے ہيں ۔ مسلم علما کی عالمی یونین کے سربراہ نے کہاکہ اس طرح کے علما نہ صرف یہ کہ دین کو تباہی کی سمت لے جارہے ہيں بلکہ اس طرح کے فتوؤں سے ان انقلابات کو نقصان پہنچے گا جنھیں عوام نے غلامی اور بردگی سے رہائي پانے کے لئے بپا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عرب ملکوں میں عوامی انقلابات الہی آيتوں میں سے ایک ہے۔ شیخ یوسف قرضاوی نے یمن کے صدر علی عبداللہ صالح اور لیبیا کے ڈکٹیٹر قذافی کے جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ فریبی ہيں مگر یمن اور لیبیا کے عوام کو کامیابی ضرور ملے گی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

القرضاوی کے بارے میں بعض حقائق:شیخ قرضاوی کا مندرجہ بالا مثبت موقف اس وقت مشکوک بن جاتا ہے جب شام اور بحرین کے بارے میں ان کے فتؤوں کو سامنے رکھا جائے۔انھوں نے بحرین کے انقلاب کو فرقہ وارانہ قرار دے کر اسے فتنہ قرار دیا کیونکہ بحرین میں انقلاب کی کامیابی سے قطر سمیت دوسری خلیجی ریاستوں میں عوام کے قیام کا احتمال ہے اور پھر بحرین کے عوام کی اکثریت کا تعلق مکتب تشیع سے ہے اور یہ صاحب ان دنوں اسرائیل اور امریکہ نیز عرب بادشاہی خاندانوں کے ساتھ مل کر انقلاب بحرین کے شدید ترین مخالفین میں سے ہیں اور شام میں بھی وہ فرقہ وارانہ جنگ شروع کرانے کے سلسلے میں سعودی عرب کے بندر بن سلطان، اردن کی خفیہ ایجنسی اور امریکہ نیز اسرائیل کی خفیہ ایجنسیون کی سازش میں شریک ہیں اور اگر باقاعدہ طور پر  شریک نہیں بھی ہوں تو ان کے سیاسی فتوے ان ہی کے فائدے میں ہیں اور ان ہی کے موقف کی تأئید میں جارہے ہیں۔انھوں نے شام میں بیرونی ایجنسیوں کے فتنیےکی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ "شام کے صدر اچھے انسان ہیں لیکن وہ فرقے کے لحاظ سے سنی نہیں ہیں لہذا ان کے خلاف بغاوت ہونی چاہئے تا کہ ملک شام میں اُن کے فرقی کی حکومت نہ رہے اور اِِن (قرضاوی صاحب) کے فرقے کی حکومت قائم ہوسکے۔حماس کے راہنما ڈاکٹر خالد مشعل نے شیخ قرضاوی کے نام اپنے بیان میں انہیں تقوائے الہی کی طرف بلایا تھا اور کہا تھا کہ کوئی بھی سنی حکمران صدر شام کی مانند فلسطینی کاز کا حامی نہیں رہا اور سارے عرب حکمران اور شیوخ سنی ہوکر بھی بکے ہوئے ہیں اور انھوں نے اپنی قومون کو بھی فلسطین کی حمایت سے دور رکھا ہے۔ شیخ قرضاوی قطر کے شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے بہنوئی ہیں اور ان کے پاس قطر کی دہری شہریت بھی ہے۔ قطر، خلیج کی دونوں جنگوں میں کویت اور بحرین نیز امارات و سعودی عرب، کی مانند امریکہ کا فوجی اڈا رہا ہے اور اس ملک میں اب بھی ایک خفیہ امریکی اڈا موجود ہے اور اسرائیل کے ساتھ بھی قطر کے قریبی تعلقات ہیں اور اس خلیجی ریاست میں اسرائیل کا نمائندہ دفتر بھی موجود ہے لیکن القرضاوی نہ صرف اپنی سسرال کے اس کردار پر تنقید نہیں کررہے بلکہ سسرال کی حکومت کے زبردست حمایت بھی کرتے ہیں اور جن انقلابات سے خلیجی حکمران خاندانوں کی حاکمیت کو خطرے کا کوئی شائبہ ہو القرضاوی ان انقلابات کی بھی مختلف بہانوں سے مخالفت کرتے ہیں۔بحرین میں شیعہ اکثریت ہے اور شام میں علوی مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن القرضاوی ایک جانب سے بقول ان کے، سنی ممالک میں تشیع کی تبلیغ کے شدید ترین مخالف ہیں تو دوسری طرف سے وہ بحرین میں ایک ہی اقلیتی حکمران خاندان کے حامی ہیں اور شام میں بھی اقلیت کی حکمرانی کے قیام کے لئے فتووں کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ایسے میں القرضاوی صاحب کو ایک ہی نصیحت کی جاسکتی ہے کہ:

 إتق اللہ يا شيخ القرضاوي :- خدا کا خوف کرو یا شیخ القرضاوی آپ بھی دیکھیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ وعاظ السلاطین میں سے ہیں اور ہر چڑھتے سورج کو سلام کرتے ہیں اور گرتے ہوئے حکمرانوں پر وار کرتے پیں۔ مثال کے طور پر ان کے لیبائی آمر کرنل معمر قذافی کے ساتھ دوستانہ تعقات تھے جس کا ایک ثبوت یہ تصویر ہے:

لیکن جب قذافی کے خلاف عوامی تحریک شروع ہوئی تو شیخ صاحب نے آنے والی حکومت سے امید باندھ کر فرمایا:

الشیخ القرضاوی نے قذافی کے قتل کا فتوی جاری کیا