26 مارچ 2011 - 19:30

کیا امریکہ اور سعودی عرب شام میں ایک اور مبارک کی تخلیق کر ناچاہتے ہیں؟ (ع صلاح ۔ماہر امور مشرق وسطیٰ ۔ایم ڈبلیو ایم میڈیاسیل )

ابنا:

شام میں بھی دوسرے عرب ممالک کی طرح موروثی نظام حکومت ہے اور اقتدار باپ کے بعد بیٹے کو منتقل ہوا ہے لیکن اس مشترکہ منفی خاصیت کے باوجود شام اور دیگر عرب ملکوں کی حکومتوں میں چند فرق ہیں۔شام ہمیشہ سے اسرائیل مخالف پالیسی میں مشہور ہے، شام ہمیشہ فلسطینیوں اور قبلہ اول کی حمایت میں پیش پیش رہا ہے، شام ہمیشہ سے خطے میں امریکی سیاست کا سخت مخالف رہا ہے، شام لبنانی اور فلسطینی مظلوم مجاہدین کی سرپرستی کرتا آیا ہے، شام اپنے ملک کے خزانے کا آدھا حصہ مسئلہ فلسطین اور قبلہ اول پر خرچ کرتا آیا ہے ۔یہی وجہ ہے شام کی حکومت کو نہ صرف شام کی عوام چاہتی ہے بلکہ عرب دنیا کی عوام شام کی ان پالیسیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جب اسرائیل نے غزپر حملہ کیا تھا تو اس وقت عربوں میں سب سے زیادہ اس مسئلے پر احتجاج شام نے کیا تھا یہاں تک کہ اس کے بعد دنیا نے ایک ایسے تکون کو دیکھا جو فلسطینی عوام کی حمایت کے لئے آہنی دیوار کی مانند کھڑا ہوا تھا اور وہ تکون ایران ،ترکی اور شام کی شکل میں تھا ۔

کل تک عرب دنیا کے اثرات شام پر نہیں پڑے تھے کہ اچانک اردن کے باڈر پر واقع ایک شہر درعا میں چند سو افراد سڑکوں پر آئے انٹرنٹ پر جاری وڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ افراد شام میں جمہوریت ،آزادی ،سیاسی تبدیلی سے زیادہ کسی اور چیز کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں ان کے نعروں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ نعرے شام کی عوام کے نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ نعرے فلسطینی تحریک مزاحمت اور قبلہ اول کے لئے کوشش کرنے والی جماعتوں کے خلاف تھے ۔اگرچہ درعا کے مظاہروں میں اردنی کردار یا اردن میں موجود بعض افرادیا جماعتوں کے کردار کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا لیکن ہم اس وقت اس اہم مسئلے کی جانب توجہ دینا چاہتے ہیں جو ان تمام کردارں کے پیچھے چھپا ہوا ہے اور اس وقت بہت سے عرب و غیر عرب تجزیہ کاربھی اس جانب کچھ دیر سے متوجہ ہوئے ہیں کہ امریکہ آل سعود کی مدد سے ایک نئے حسنی مبارک کی تلاش میں ہے جو خطے میں اسرائیلی مفادات کا پاسدار ہو اور ہر اس کوشش کو ناکام بنائے جو فلسطینیوں کے حق میں جارہی ہےظاہر ہے کہ امریکہ کو ایران ترکی اور شام کا گٹھ جوڑ پہلے سے کھٹک رہا تھا کہ اب مصر اور کچھ ہی دنوں میں نہ جانے کتنے اور آزاد مصر نے اس گٹھ جوڑ کے ساتھ جڑنا ہے نے امریکی حکمرانوں اور پالیسی ساز ادراوں کا سکون چھین لیا اور فلسطین کے مسئلے پر مزید عرب ممالک کی حمایت کامطلب تو یہ ہوگا کہ خطے سے امریکہ چلتا کرے اور اپنے ساتھ اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کو بھی لیتا جائے یا پھر ایسے حسنی مبارک اور آل سعود ایجاد کیے جائیں جو عرب دنیامیںپہلے سے موجود امریکی حامیوں کے مدد گار بنیں ،امریکہ کے لئے یک بعد دیگر اپنے مہروں کا اس طرح پیٹ جانا کسی طور بھی قبول نہیں ہوگا اسی لئے جب امریکہ نے دیکھا کہ بحرین میں اس کا مہرہ پیٹ سکتا ہے تو فورا اپنے دوسرے مہرے آل سعود کی افواج کو وہاں لے آیااگرچہ اس وقت سعودی عرب کو کچھ کچھ احساس ہوا ہے کہ کون اس کے کاندھے پر بندوق رکھ کر اپنا نشانہ باندھ رہا ہے اور اس کے کیا نتائج نکلنے والے ہیں اس لئے بار بار امریکہ سے ساتھ نہ چھوڑنے اور بے وفائی نہ کرنے کی ضمانت مانگ رہا ہے لیکن وہ امریکہ ہی کیا جو وفاداری کرے اس کی وفاداری کے نمونے اشاہ ایران ،کمال اتاترک،تیونس کے بن علی اور مصر کے حسنی مبارک کی شکل میں سامنے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110