22 مارچ 2011 - 19:30

بحرین کی نیشنل ڈموکریٹک سوسائٹی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ بحرین میں 14 فروری 2011 کو شروع ہونی والا انقلاب بری حد تک تیونس اور مصر کی انقلابات سے ملتا جلتا ہے اور بحرین سے ہی خلیج فارس کی عوامی احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی نیشنل ڈموکریٹک سوسائٹی کے سیکریٹری جنرل فاضل عباس نے کہا: اس انقلاب نے عوام محاذ برائے آزادی خلیج فارس کی یادیں زندہ کردی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوامی محاذ کی بحرینی راہنماؤں نے خلیج فارس کی آزادی کے لئے چلنے والی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا جو عربی آمریتوں کے خلاف چلی تھی لیکن اس زمانے میں امریکہ، شاہ ایران اور سعودی خاندان نے مل کر عمان میں ظفار کے علاقے میں اس انقلاب کا راستہ روکا تھا اور عوام کو کچل ڈالا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اب تاریخ دوبارہ دہرائی جارہی ہے اور بحرین اس بار خلیج فارس کے علاقے میں جمہوری انقلاب میں تبدیل ہوگیا ہے گو کہ یہ انقلاب پر امن ہے اور اس میں ہتھیار اٹھانے کا تصور تک نہیں ہے اور بحرین میں 14 فروری کو شروع ہونے والے انقلاب نے نجد و حجاز کے عوام کو بھی جمہوریت کا مطالبہ کرنے کی ترغیب دلائی ہے اور اب نجد و حجاز کے لوگ بھی جزیرہ نمائے عرب کی دولت اور اقتدار پر سعودی خاندان کا قبضہ ختم کرنے کے بارے میں سوچنے اور بولنے لگے ہیں اور سڑکوں پر بھی آنے لگے ہیں۔ انھوں نے کہا: جو لوگ علاقے کی تاریخ سے واقف ہیں اور نجد و حجاز کی بزرگ شخصیات کو جانتے ہیں اور ان کے کارناموں سے واقف ہیں ان کے لئے سعودی عرب میں اٹھنے والی لہر کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین اور علاقائی ممالک میں جبر کے نظاموں کے سامنے استقامت کے سلسلے میں بحرینی عوام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جبکہ خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں میں سے بعض براہ راست انقلاب بحرین کو کچلنے کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ بھی مشرق قریب کے امور میں نائب وزیر خارج جیفری ولٹمین ـ جو آل خلیفی بادشاہ پر امریکی دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کیا جا رہے ہیں ـ کے ذریعے بحرین میں مداخلت کی کوشش کررہا ہے اور یہ اقدام امریکی منافقت کا واضح ثبوت ہے۔انھوں نے کہا: جیفری ولٹمین لبنان اور علاقے کے دوسرے ممالک کے عوام کے خلاف سازشیں کرنے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں اور اب بحرین کا مسئلہ بھی ان کے سپرد کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: ہم ولٹمین سے کہتے ہیں کہ بحرینی قوم کو حکمران خاندان کی مسلسل حمایت اور بحرین کے اندر اور بحرین سے باہر امریکیوں کے ہاتھوں بحرینی اسلام پسندوں اور حریت پسندوں پر تشدد کے واقعات پر مبنی سیاہ امریکی تاریخ بالکل یاد ہے چنانچہ جمہوریت کے حوالے سے امریکی معیار عرب ممالک کی حقوق سے مغایرت رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا: ولٹمین جیسے لوگوں کو منافقت اور دروغ گوئی سے پرہیز کرنا چاہئے اور انہیں بحرین سے چلے جانا چاہئے کیونکہ ان جیسے لوگوں کے لئے بحرینی عوام کے درمیان کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110