21 مارچ 2011 - 20:30

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے ایک ہزار سپاہی بحرین پر جارحیت کرنے والی بیرونی افواج میں شامل کردیئے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سے روانہ ہونے والے لوگ بظاہر تو بحرینی کمپنیوں نے بھرتی کردیئے ہیں لیکن فوجی فاؤنڈیشن اور بحریہ سے وابستہ دو اداروں نے ان کی بھرتی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ بحرین روانہ کئے جانے والے ایک ہزار پاکستانیوں کا گروپ اکثریت پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ فوجیوں پر مشتمل ہے۔

دریں اثناء پاکستانی جارحین کو بھی ایسی قوم کا سامنا ہوگا جس کے پاس ہتھیار نہیں ہیں اور ان کا سب سے بڑا ہتھیار اللہ اکبر کی صدا ہے وہ یہ سطور لکھتے وقت بھی کل، پرسون اور ترسون کی راتون جیسی الله اکبر کی صدا سے آل خلیفہ اور آل سعود نیز آل صباح، آل ثانی اور آل نہیان کے سپاہیوں کی نیند خراب ہو رہی ہے کیونکہ جارحوں کی فطرت ایسی ہی ہوتی ہے، پرائی زمین پر قبضہ کرنے والوں کو چین سے نیند نصیب نہیں ہوا کرتی اور اب تو پاکستانی سپاہی بھی "مزدوروں کے بھیس میں" اور "فوجی فاؤندیشن اور بحریہ کے توسط سے بھرتی ہوکر"، قابضین کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں لیکن اللہ اکبر کی صدا ان کی نیندیں بھی حرام کردیں گی۔

یاد رہے کہ اس بار پاکستانیوں کی بھرتی عام سی بھرتی نہیں ہے بلکہ سعودی بادشاہت کو حجازی عوام کے غیظ و غضب سے بچانے کی کوشش ہے۔ آل سعود کے حکمران امریکی اور برطانوی اشاروں پر بحرین اور یمن میں مداخلت کرچکے ہیں تا کہ ان ملکوں میں ہونے والے انقلابات کو ناکام بنا کر اپنے عوام کو انقلاب کی کامیابی سے ناامید کردیں لیکن یہ انقلابات کامیاب ہو رہے ہیں اور انقلاب کے بعد بننے والی حکومتیں ان ممالک کو نہیں بھولا کرتیں جنہوں نے ان کے انقلاب کو ناکام بنانے کی سازشوں میں حصہ لیا تھا اور پھر یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ یہ فوجی ایک مظلوم ملت کی صدائے احتجاج دبانے کے لئے جارہے ہیں اور یہ خیال سرے سے باطل ہے کہ حکومت پاکستان اتنے بڑے واقعے سے بے خبر ہے۔ کیونکہ ان کو پاکستان میں فوجی تربیت دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے اس سے قبل شمالی یمن کے اہل تشیع کے خلاف سعودی جارحیت کے دوران بھی 300  فوجی سعودی عرب بھیج دیئے تھے۔

پاکستانی ذرا‏ئع نے لکھا:پاکستان سے ایک ہزار افراد کو بحرین نیشنل گارڈز میں بھرتی کر دیا گیا ہے اور ان کی تربیت شروع کر دی گئی ہے تا کہ بحرین میں انقلابی تحریک کے حامیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے۔واضح رہے کہ بحرین میں عوامی انقلابی تحریک کو کچلنے کے لئے پہلے ہی سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک اپنی فورسز کو بحرینی عوام کے قتل عام کے لئے بھیج چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بحرین فاؤنڈیشن اور فوجی فاؤنڈیشن پاکستان مشترکہ طور پر بھرتی کئے گئے ایک ہزار پاکستانیوں کو تربیت فراہم کریں گے جس کا مقصد بحرینی شیعہ اور سنی مسلمانوں کا قتل عام کرنا ہے۔واضح رہے کہ بحرین میں انقلابی تحریک جاری ہوتے ہی دو تنظیموں نے مل کر پاکستان سے سلفی اور وہابی سوچ کے افراد کی بھرتی شروع کر دی تھی تا کہ بحرینی انقلابی تحریک کو کچلنے کے لئے بحرین بھیجا جا سکے۔ دونوں تنظیموں کاکہنا ہے کہ امریکی اور بحرینی نیشنل گاڑڈز کے ماہرین ایک ہزار بھرتی کئے گئے پاکستانیوں کو تربیت دیں گے جن کو ایک ماہ کے اندر بحرین روانہ کر دیا جائے گا۔ بحرین فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائرکٹر ایڈ مرل محمود اے خان کاکہنا ہے کہ بحرین میں عوامی انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد انھوں نے پاکستان میں فوجی فاؤنڈیشن کے تعاون سے 850 افراد کو بھرتی کیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانیوں کی بحرینی عوام کے قتل عام کے لئے کی جانے و الی بھرتی کو پاکستانی عوام نے مسترد کرتے ہوئے زور دے کر کہا ہے کہ پاکستانی بحرینی مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور وہ اپنے ہاتھوں کو مسلمانوں کے خون سے نہیں رنگنا چاہتے۔ دوسری جانب شیعہ تنظیموں کے سربراہوں بشمول جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری، شیعہ علماء کونسل کے رہنما مولانا ناظر تقوی، آئی ایس او پاکستان کے صدر رحمان شاہ،اور ماتمی انجمنوں کے رہنماؤں نے بحرین میں شیعہ افراد کی نسل کشی کے لئے ایک ہزار پاکستانیوںکی بھرتی کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں موجود ایسے ملک دمشن و مسلم دشمن عناصر کا قلع قمع کیا جائے اور بحرین نیشنل گارڈز میں پاکستانیوں کی بھرتی کو روکا جائے۔