اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، بحرین میں آل خلیفہ خاندان کے غاصبانہ تسلط کو بچانے کے لئے آل سعود اور آل نہیان کی فوجوں اور آل خلیفہ کی فورسز نیز بیرونی کرائے کے قاتلوں نے اب تک دارالحکومت منامہ سمیت بحرین کے مختلف علاقوں سے 100 سے زائد افراد اغوا کرلئے ہیں۔سابق بحرینی ایم پی سید ہادی الموسوی نے کہا: ہم نے وزارت داخلہ، وزارت صحت اور اسپتالوں سے درخواست کی ہے کہ ان لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے منامہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرنے والے بحرینی عوام سے خطاب کرتے ہوئے اس بین الاقوامی ادارے سے مطالبہ کیا کہ بحرین میں فوری طور پر بحرین میں ریلیف اینڈ ریسکیو کاروائیاں شروع کردے۔اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرنے والے عوام نے ایک بار پھر آل خلیفہ خاندانی بادشاہت کے خاتمے اور ملک میں آئینی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ عوام کے یہ مطالبات 14 فروری سے بلا ناغہ جاری ہیں اور آل خلیفہ نے آل سعود اور آل نہیان سے مدد مانگ کر عوام کو خاموش کرنے اور ان کی آواز دبانے کی کوششیں شروع کردی ہیں جو بظاہر ناکام نظر آرہی ہیں۔ آل خلیفہ حکمرانوں نے اسی سلسلے میں منامہ کے قلب میں واقع پرل اسکوائر کو تباہ کردیا ہے تاکہ ان کے بزعم انقلاب کی یہ علامت ختم کرکے عوام کے دلوں میں انقلاب کی چنگاری بجھائی جاسکے گی اور ان کے قلب سے انقلاب کا خیال ہی نکال دیا جاسکے گا جبکہ تجزیہ نگاروں نے آل خلیفہ کی اس اقدام کو نہایت احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میدانوں اور علامتوں کے انہدام سے انقلابوں کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔جبر و ستم کی کاروائیوں کے دوران اب تک 18 نہتے شہری شہید ہوگئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور گذشتہ جمعرات کے روز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر "نیوی پیلی (Navi Pillay) نے ملک کے ہسپتالوں پر قبضہ کرنے کی آل خلیفہ کی نئی کوششوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی جبکہ انھوں نے بے گناہ اور نہتے شہریوں کو قتل اور زخمی کرنے کی سرکاری کاروائیوں کی بھی مذمت کی۔ بحرین سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق آل سعود اور آل نہیان کی فورسز کی جارحیت کے بعد بحرین میں عوام کی خودسرانہ گرفتاریوں اور اغوا کے کیسوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور ہر روز کئی افراد کو گولی مار کر زخمی کیا جاتا ہے۔دوسری طرف سے بحرین میں "انتفاضہ اللہ اکبر" کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور عوام اپنے گھروں کی چھتوں سے تکبیر کی صدائیں بلند کرتے ہیں تو سعودی اور نہیانی فورسز کے ساتھ مقامی فورسز اور کرائے کے غنڈے اللہ اکبر کا نعرہ لگانے والوں کا جواب گولیوں سے دے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
20 مارچ 2011 - 20:30
News ID: 232593
سابق بحرینی ایم پی نے کہا کہ بحرین میں بیرونی جارح فوجوں کی مدد سے ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران اب تک 100 سے زائد افراد اغوا کرلئے گئے ہیں جن میں سے چار شہید کئے گئے ہیں۔