8 مارچ 2011 - 20:30

سعودی عرب کے حکام کی آمرانہ پالیسی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ وہ کسی بھی سرگرم شیعہ سیاسی یا سماجی کارکن کو کسی بہانے گرفتار کرکے عرصۂ دراز تک مقدمہ چلائے بغیر قید میں رکھا کرتے تھے لیکن اس بار احتجاج جتنا شدید ہے حکام بھی اتنی تیزی سے پسپا ہورہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے شیعیان اہل بیت (ع) کے احتجاجی مظاہرے رنگ لانے لگے ہیں اور شیخ توفیق عامر کی رہائی کے بعد الشرقیہ کے گورنر محمد بن فہد نے گذشتہ جمعہ کے روز گرفتار ہونے والے 27 افراد کی رہائی کے احکامات جاری کئے ہیں۔محمد بن فہد نے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے کی غرض سے ملاقات کے لئے آنے والے 15 نوجوانوں کو مثبت جواب دیتے ہوئے گذشتہ ہفتے گرفتار ہونے والے 27 افراد کی رہائی کے احکامات جاری کئے۔ نوجوانوں کے وفد نے اَلخُبَر بم دھماکے کے سلسلے میں جھوٹے الزامات کی بنا پر گرفتار ہونے والے کئی برسوں سے بغیر مقدمہ چلائے قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے 9 افراد کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ یہ افراد گذشتہ سولہ برسوں سے قید ہیں اور ان سے کسی بھی قسم کی ملاقات پر پابندی ہے چنانچہ یہ افراد "منسیون" (= بھلائے جانے والوں) کے عنوان سے مشہور ہیں۔ محمد بن فہد نے کہا کہ شیعیان حجاز کے اس مطالبے پر بھی غور کرنے اور ان کی رہائی کے لئے اقدام کرنے کا وعدہ دیا ہے۔ دریں اثناء وہ خواتین جنہیں گذشتہ سنیچر کے روز ـ محمد بن فہد کی براہ راست ہدایت پر ـ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور زدوکوب کیا گیا تھا، بھی ابن فہد سے ملنے کے لئے دمام پہنچی ہیں اور اطلاعات کے مطابق یہ خواتین آج (بروز جمعرات) سعودی گورنر سے ملاقات کریں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110