21 فروری 2011 - 20:30

لیبیا کے آمر کرنل قذافی نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے بنغازی اور طرابلس میں وسیع پیمانے پر عوام کا قتل عام کیا ہے اب تک 500 سے زآئد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ادھر لیبیا میں کرنل قذافی کی بربریت کے خلاف سلامتی کونسل نے آج اجلاس طلب کیا ہے۔

ابنا: اس اجلاس کی درخواست اقوام متحدہ میں لیبیا کے ڈپٹی سفیر ابراہیم دباشائی نے دی تھی۔ انھوں نے کہا کہ لیبیا میں انتظامیہ لوگوں کی نسل کشی کر رہی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ لیبیا کی عوام کی حفاظت کے لیے مداخلت کرے۔ابراہیم کے مطابق لیبیا کے حکمران کرنل معمر قذافی پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔دریں اثناء لیبیا کے کئی سینئیر ترین سفارت کاروں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان میں امریکہ اور نئی دہلی اور ملیشیاء میں تعینات لیبیا کے سفراء شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اب کرنل قذافی کی حکومت کے لیے کام نہیں کر سکتے ہیں۔لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے خلاف ’نفرت آمیز‘ چینلز کی ’بغض پر مبنی افواہیں‘ ہیں۔لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے خلاف ’نفرت آمیز‘ چینلز کی ’بغض پر مبنی افواہیں‘ ہیں۔انہوں نے سرکاری ٹی وی پر ایک تباہ شدہ عمارت کے سامنے کھڑے ہو کر کہا کہ ’میں طرابلس ہوں نہ کہ وینزویلا میں۔‘اس سے قبل لیبیا کے نائب وزیر خارجہ نے ان بھی خبروں کو مسترد کر دیا تھا کہ کرنل قذافی ملک چھوڑ کر وینزویلا جا رہے ہیں۔لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں دوسری رات بھی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔عینی شاہدین کے مطابق طرابلس میں جنگی جہازوں نے مظاہرین کو گولیوں سے نشانہ بنایا لیکن شہر کے جنوبی حصوں سے یہ بھی اطلاعات ملی ہیں کہ وہاں فوج اور کرنل قذافی کے حامیوں کے درمیان لڑائی ہوئی ہے۔اس سے قبل لیبیا کی دفاع کے متعلق نئی جنرل کمیٹی نے کہا تھا کہ وہ ملک سے حکومت مخالف عناصر کا صفایا کر دے گی۔دوسری طرف اقوامِ متحدہ میں لیبیا کے نائب مندوب ابراہیم دباشی نے حکومت پر نسل کشی کا الزام لگاتے ہوئے کرنل قذافی کو کہا ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کرنل قذافی نے اقتدار نہ چھوڑا تو عوام ان سے خود چھٹکارا حاصل کر لیں گے۔انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ لیبیا کے عوام کوملک کے حکمرانوں کی طرف سے روا رکھ جانے والی نسل کشی کی پالیسی سے بچائیں۔ انہوں نے طرابلس کے اوپر ایک نو فلائی زون بھی قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جہاں اطلاعات کے مطابق ایک جنگی جہاز سے مظاہرین پر گولیاں برسائی گئی ہیں۔صدر معمر قذافی کے حامیوں کی طرف سے طرابلس میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین پر تشدد کے بعد لیبیا کے رہنما پر اندرونِ ملک اور بیرونی دنیا سے پڑنے والے دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کرنل قذافی سے فون پر چالیس منٹ لمبی بات کرتے ہوئے لیبیا میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے پر زور دیا ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ لیبیا کے دو جنگی طیارے مالٹا کے ائرپورٹ پر اترے ہیں جہاں پائلٹوں نے یہ کہتے ہوئے کہ وہ اپنے عوام پر گولہ باری نہیں کر سکتے اپنے آپ کو مالٹا کے حکام کے حوالے کر دیا ہے۔لیبیا کے سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز گزشتہ رات ہونے والے مظاہروں کے بعد ’دہشت گردوں اور تخریب کاروں کے اڈوں‘ کو نشانہ بنا رہی ہیں۔لیبیا سے شائع ہونے والے عربی اخبار قورینا کے مطابق ملک کے وزیر انصاف مصطفیٰ عبدالجلیل نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر احتجاج کے طور اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔دوسری طرف عرب لیگ میں لیبیا کے سفیر عبدالمومن الہونی نے ’انقلاب کا ساتھ دینے‘ کا اعلان کیا ہے جبکہ بھارت میں لیبیا کے سفیر علی الساوی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے استعمال پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ میں لیبیا کے سفارتکاروں نے لیبیا میں ہونے والے واقعات پر عالمی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔عرب لیگ کے سربراہ امر موسیٰ نے احتجاجی مظاہرین کی طرف سے کیے جانے والے مطالبات کو جائز قرار دیا ہے اور لیبیا میں تشدد کے واقعات بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ لیبیا میں تشدد کی شدید مذمت کرنے میں عالمی برادری کے ساتھ ہے۔ لندن میں برطانوی حکومت نے لیبیا کے سفیر کو بتایا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کے ہلاکت خیز استعمال کی مذمت کرتی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ لیبیا میں گزشتہ ہفتے سے جاری احتجاج کے دوران دو سو تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ادھر برسلز میں یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ لیبیا کو لوگوں کے پرامن احتجاج کے بنیادی حق کا احترام کرنا ہوگا۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ لیبیا میں گزشتہ ہفتے سے جاری احتجاج کے دوران دو سو تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔دوسری طرف لیبیا میں پرتشدد واقعات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔پیر کے روز خام تیل کی خریدو فروخت کے دوران ایک مرحلے پر برینٹ کروڈ کی قیمت ایک سو پانچ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔یہ سن دو ہزار آٹھ کے مالیاتی بحران کے بعد سے خام تیل کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔دنیا میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی بی پی کا کہنا ہے کہ وہ لیبیا سے اپنے غیر ملکی عملے کو نکالنے کی تیاری کر رہی ہے۔اس سے ساتھ ساتھ لیبیا میں سب سے فعال اطالوی تیل کمپنی این این آئی کے حصص کی قیمت چار اعشاریہ چار فیصد گِر گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110 ۔۔۔۔۔۔

/110