اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے شیعیان بحرین کے خلاف بحرین کی استبدادی بادشاہت کے تشدد آمیز اقدامات پر اہم پیغام جاری کیا ہے۔پیغام کا متن:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ولا تحسَبَنَّ اللہ غافلاً عَمَّا يَعمَلُ الظَّالمُونَ إِنَّما يُؤخِّرُهُم ليَوم تشخَصُ فيه الأبصار
(اور اللہ کو ان کاموں سے ہرگز بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم انجام دے رہے ہیں، بس وہ تو ان (ظالموں) کو فقط اس دن کے لئے مہلت دے رہا ہے جس میں (خوف کے مارے) آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی)۔
ایسے حال میں، کہ جب اسلامی بیداری اور عدالت خواہی (Justice seeking) کی لہریں خطے کے ممالک میں اٹھ چکی ہیں اور تیونس اور مصر میں عوام کی ریلیوں اور دھرنوں کے نتیجے میں مغرب سے وابستہ آمریتوں کی سرنگونی کے بعد دیگر اسلامی ممالک کے عوام نے بھی اپنے پامال شدہ حقوق کے احیاء کے لئے دھرنوں اور ریلیوں کا آغاز کیا جو کہ آزاد اور جمہوری ملکوں میں ہر شہری کا مسلمہ اور فطری حق ہے۔ حریت پسندی اور آزادی خواہی کی یہ لہر اس وقت بحرین کے ساحل تک بھی پہنچ چکی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ بحرین کے عوام مصری عوام کی مانند اپنے نظام حکومت کے اسقاط اور زوال کے درپے نہیں تھے بلکہ وہ پرامن مظاہروں کے توسط سے مطالبہ کررہے تھے کہ حکومت اس اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد کرے جس کا اس نے آج سے کئی سال قبل وعدہ دیا تھا؛ لیکن نہایت حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ بحرین کے حاکموں نے پرامن مطالبات کا نہایت بھونڈے اور قابل نفرت طریقے سے جواب دیا۔ بدھ کے روز 2 افراد شہید ہوئے اور جمعرات کو علی الصبح میدان اللؤلؤة میں دھرنا دینے والے نہتے افراد کو نہایت وحشیانہ انداز حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں مزید کئی افراد شہید ہوئے؛ چنانچہ بحرینی حکمرانوں کا یہ اقدام عالمی رائے عام کی شدید حیرت اور تأسف کا باعث بنا اور بحرین کے ملک و ملت کے مقدرات سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں کو شدید تشویش لاحق ہوئی۔ اس المئے کی گہرائی کے پیش نظر، عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی ـ جو دنیا کے گوشے گوشے سے سینکڑوں دانشوروں اور علماء سے تشکیل پائی ہے ـ ایک بین الاقوامی اور غیر سرکاری ادارے کی حیثیت سے دنیا والوں کی توجہ مندرجہ ذیل چند نکات کی طرف مبذول کراتی ہے: 1۔ برسوں سے مغربی ممالک جمہوریت، انسانی حقوق اورآزادی کے نعرے لگاتے ہیں اور ان انسانی مفاہیم کو حقیقی حریت پسندوں کی سرکوبی کے لئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ان ممالک کو اب جواب دینا پڑے گا کہ اگر وہ واقعی اقوام کے حقوق کے حامی ہیں تو پھر وہ اپنے حمایت یافتہ ممالک میں اس طرح کے اقدامات کا سد باب اور مقابلہ کیوں نہیں کرتے؟2۔ بحرین کے بادشاہ سے سنجیدگی کے ساتھ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عقل و خرد، منطق اور شرع اور قانون کی بنیاد پر عوام مطالبات کا سامنا کریں اور عوام کے ساتھ تشدد آمیز سلوک اور ان کے خلاف ہتھیاروں کے استعمال کا راستہ روکیں اور مزید جانی نقصان کا سد باب کریں۔ بے شک عوام کے ساتھ قہر آمیز رویہ بحران کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوگا بلکہ اس سے حکومت اور عوام کے درمیان جدائی شدید ہوگی، تفرقہ پڑے گا اور موجودہ خلیج میں مزید اضافہ ہوگا۔ 3۔ بحرین کی حکام اور فوجی و سیکورتی فورسز سے مطالبہ کرتی ہیں کہ اپنی ہاتھ اپنی ہموطنوں اور ہم مذہب و ہم مسلک افراد کی خون سے نہ رنگین اور اپنی لئے دنیاوی اور اخروی عقوبت نہ خریدیں۔ 4۔ ہم بحرین کے تمام سیاسی دھڑوں کو گفتگو اور مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں اور زور دے کر عدم تشدد کی پالیسی اپنانے اور سیاسی تعطل پیدا نہ کرنے کی پالیسی پر کاربند رہنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 5۔ ہم بحرین میں بیرونی فوجی مداخلت اور ان کی طرف سے عوام کی سرکوبی اور ان پر جبر برتنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بحرین کے تمام پڑوسی ممالک نیز بین الاقوامی طاقتوں کو بحرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خبردار کرتے ہیں۔ 6۔ دنیا کے انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کہ وہ بحرین کے حکام پر دباؤ ڈال کر اس ملک کے عوام کی حقوق کی مزید تضئیع اور پامالی کا سد باب کریں؛ نیز صحت اور علاج و معالجے سے متعلق بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بحرین کے مظلوم اور مجروح و بیمار عوام کی مدد کے لئے فوری اقدام کریں۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی آخر میں ایک بار پھر بحرین کے واقعات کی مذمت کرتی ہے اور اس کو یقین ہے کہ بحرین کے مختلف مذاہب اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے عوام خود ہی اپنے ملک کی سالمیت کے تحفظ اور اس ملک میں حقیقی جمہوریت قائم کرنے کی پوری اہلیت رکھتے ہیں اور صبر و استقامت اور خدا پر توکل کرکے یقینی طور پر اس مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کریں گے۔
و ما النصر الا من عند اللہ العزیز الحکیم (سوره آل عمران ـ آیه 126)(اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے جو بڑا غالب حکمت والا ہے)۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی13 ربیع الاول 1432
......../110