اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ : عالم اسلام میں حالیہ ہفتوں کے دوران تیزرفتار تبلدیلیاں اور تیونس و مصر کے ڈکٹیٹروں کا ذلت آمیز زوال؛ مسلم اقوام کی نشأت ثانیہ کا نتیجہ ہے، لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ یہ ایک راستے کا آغاز ہے جو ایک نئے اور اسلامی مشرق وسطی کی نوید دیتا ہے؛ ایسا مشرق وسطی جس کی تشکیل میں حرف آخر مسلم اقوام کا ہوگا۔ گوکہ نئی تبدیلیاں تیونس اور مصر سے شروع ہوئی ہیں لیکن شک نہیں ہے کہ یہ تبدیلیاں یہیں ختم نہیں ہونگی۔ ۔۔۔۔۔دیکھتے ہیں عرب کی جاگ جانے والی قوموں کی آج کی کارکردگی کیا رہی:بحرین / صبح 06:00 بجے ــ (تہران اسٹینڈرڈ ٹائم) مظاہرے نماز صبح کے بعد سے شروع ہوئی گوکہ اصلی مظاہرے شام کو منعقد ہونے والے ہیں لیکن منامہ کے نواحی علاقوں کے عوام نے حکومت کے خلاف اپنے احتجاج کا آغاز صبح سے کیا تا ہم انہیں معمول کے مطابق سرکاری فورسز کے تشدد آمیز اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔ بحرین / صبح 08:00 بجے ــ عین شاہدوں نے ـ جو اپنا نام بتانے سے گریز کررہے تھے ـ بتایا کہ بحرینی سیکورٹی فورسز نے صبح سے ہی علاقے کو گھیر رکھا تھا اور انھوں نے بحرینی یوم الغضب پر عوام کو احتجاج سے روکنے کے لئے لوگوں پر بڑی مقدار میں آنسو گیس استعمال کرنے کے علاوہ انہیں پلاسٹک گولیوں کا نشانہ بنایا۔ بحرینی اپوزیشن نے عوام سے سہ پہر کے مظاہرے میں شرکت کی اپیل کی۔ انھوں نے آج کے دن کو "یوم الغضب" کا نام دیا ہے۔ بحرینی حکومت نے اس سے قبل ہر خاندان کو 1000 دینار (کی چوسنی) دینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس ملک میں اخبارات کو آزادی دی جائے گی۔ بحرین / صبح 08:30 بجے ــ بحرینی پولیس نے جنوبی علاقے کے شیعہ گاؤں "النویدرات" میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس استعمال کیا۔مصر / صبح 09:00 بجے ــ اخوان المسلمیں نے فوجی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اصلاحات کا عمل فوری طور پر شروع کرے اور انقلابیوں کی خواہشات کے مطابق آگے کی جانب بڑھے؛ تمام سیاسی قیدیوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرے، 30 سالہ ایمرجنسی اٹھا دے اور عدلیہ کی نگرانی میں شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کا اہتمام کرے۔ مصر / دوپہر 12:00 بجے ــ فوجی کونسل کے سربراہ کی صہیونی وزیر جنگ سے ٹیلی فون پر گفتگو پر احتجاج کرتے ہوئے مصری عوام نے میدان التحریر میں مظاہرہ کیا اور صہیونی ریاست کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ مصر / دوپہر 13:00 بجے ــ غاصب صہیونی ریاست حسنی مبارک کو صدارتی عہدے میں برقرار رکھنے میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد اب اعلی فوجی کونسل کے ساتھ رابطہ کرکے مصر میں اسرائیل نواز حکومت قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مصر / دوپہر 13:00 بجے ــ 25 جنوری ٹرسٹیز کونسل نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ جمعے کو میلین مارچ میں کامیابی کا جشن منایا جائے گا اور اس مارچ کے دوران سیاسی قیدیوں کی رہائی اور ملک میں 30 سالہ ایمرجنسی کے خاتمے جیسے مزید مطالبات پیش کئے جائیں گے۔ یمن / دوپہر 13:10 بجے ــ شدید سیکورٹی اقدامات کے باوجود ہزاروں یمنیوں نے ریلیاں منعقد کرکے علی عبداللہ صالح آمریت کے خاتمے کا مطالبہ کیا انھوں نے صدارتی محل تک پہنچنے کی کوشش بھی کی لیکن سیکورٹی فورسز نے تشدد کے ذریعے انہیں ایسا نہیں کرنے دیا۔ دارالحکومت صنعاء کے علاوہ یمن کے دوسری شہروں اور قصبوں میں بھی صالح آمریت کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے۔ یادرہے کہ علی عبداللہ صالح نے چند روز قبل عوامی غضب سے بچنے کے لئے حکومت کو موروثی نہ کرنے اور آنے والے انتخابات میں امیدوار نہ ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن وہ پھر بھی عوامی غیظ و غضب پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں اور عوام بدستور تیونسی اور مصری انقلابات کے نقش قدم پر چلنے پر زور دے رہے ہیں۔ تیونس / دوپہر 14:00 بجے ــ عبوری کابینہ کے وزیر خارجہ نے فرانسیسی حکومت کے سامنے ذلت آمیز موقف اپنانے کی بنا پر شدید عوامی غیظ و غضب کا سامنا تھا چنانچہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ "احمد اونیس" نے اپنے تازہ ترین موقف کی بنا پر عوامی غیظ و غضب کو ابھارا اور انھوں نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں تیونسی آمر کی سرنگونی کے اقدام کو عوامی انقلاب کا نام دینے سے گریز کرتے ہوئے نہایت ذلت آمیز انداز سے اپنی فرانسیسی ہم منصب کی تعریف کی تھی۔تیونس کے مسلم عوام، جو اپنے انقلاب کے ذریعے اسلامی جماعتوں کو برسر اقتدار لانے کی کوشش کررہے ہیں، میں اس تیونسی وزیر کے مغرب نواز اور ذلیلانہ موقف کے نتیجے میں، شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور انھوں نے اس وزیر کو ملکی خارجہ پالیسی کی قیادت کے لئے نااہل قرار دیا۔مصر / سہ پہر 14:10 بجے ــ الجزیرہ چینل: میدان تحریر میں پولیس والوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے اور وہ میدان میں باقی ماندہ مظاہرین سے میدان ترک کرنے کی توقع لے کر اپنا دباؤ بڑھانے لگے ہیں۔ الجزایر / سہ پہر 14:20 بجے ــ "قومی ہماہنگی برائے تغییر و جمہوریت" الائنس نے اعلان کیا کہ حکومت کے خلاف احتجاج کی طور پر ہر سنیچر کے روز مظاہروں کا اہتمام کیا جائے گا۔ "قومی ہماہنگی برائے تغییر و جمہوریت" الائنس شہری سوسائٹی کے گروہوں، لیبر یونینز اور چھوٹی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے۔ اس الائنس نے کل بھی ریلیوں کا اعلان کیا لیکن فوجی اور سیکورٹی فورسز کی مداخلت کی وجہ سے یہ ریلیاں زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکیں۔ چنانچہ اس اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس کے بعد ہر سنیچر کو ریلیاں منعقد ہونگی۔"سوسائٹی برائے تہذیب و جمہوریت" نامی حکومت مخالف جماعت کے ترجمان "محسن بلعباس" نے اس مظاہرے میں شرکت کے بعد ہفتہ وار ریلیوں کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ ریلیاں حکومت کی سرنگونی تک جاری رہیں گی۔ الجزائری حزب اختلاف کے راہنما زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ تیونس اور مصر کے انقلابات کی پیروی کرتے ہوئے الجزائر میں بوتفلیقہ کی حکومت کے خاتمے کے لئے عوامی انقلاب کا راستہ ہموار کیا جاسکے۔ بوتفلیقہ 1999 سے لے کر اب تک الجزائر پر مسلط ہیں اور اسی زمانے سے ملک میں ایمرجنسی بھی نافذ ہے۔ بوتفلیقہ فوجی بغاوت کے نتیجے میں برسر اقتدار آئے تھے۔مغربی پٹی (فلسطین) / سہ پہر 14:30 بجے ــ دریائے اردن کی مغربی پٹی میں فلسطین کی خودمختار اتھارتی کے غیرقانونی بَہائی/ صہیونی صدر ابومازن محمود عباس کی طرف سے تشکیل یافتہ غیرقانونی حکومت کے وزیر اعظم سلام فیاض کی کابینہ مصری اور تیونسی انقلاب کی سرایت سے بچنے کی غرض سے مستعفی ہوئی ہے۔ فلسطینی اتھارتی نے حال ہی میں غزہ کو چھوڑ کر مغربی کناری میں مقامی انتخابات کا اعلان کیا ہے جو جولائی کی مہینی میں منعقد ہونگی جبکہ حماس اور حماس کی قانونی حکومت نے محمود عباس کی غیر قانونی حکومت کے اس اعلان کو ناجائز اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ دریں اثنا فلسطینی اتھارٹی کے سابق مذاکرات کار "صائب عریقات" نے ہفتہ 12 فروری کو استعفا دیا ہے۔ یادرہے کہ حال ہی میں الجزیرہ ٹی وی چینل نے فلسطینی اتھارٹی کے غیرقانونی صدر محمود عباس اور اسرائیل کے درمیان وسیع تعاون اور عباس کی جانب سے فلسطینی شہر اسرائیل کے حوالے کرنے کے حوالے سے بے شمار دستاویزات شائع کرکے اس شخص کی حقیقت واضح کردی ہے۔ سعودی عرب / سہ پہر 14:40 بجے ــ سعودی حکمران اپنے مشرقی علاقوں میں مصری انقلاب کے دہرائے جانے سے شدید خوف میں مبتلا ہیں اور حال ہی میں سعودی بادشاہ ملک عبداللہ اور امریکی صدر اوباما کے درمیان ٹیلی فونک مکالمہ فاش ہوا ہے جس میں عبداللہ نے امریکہ سے حسنی مبارک کو ہر قیمت پر بچانے کی درخواست کی تھی جس کے بعد کہا گیا ہے کہ 86 سالہ بیمار عبداللہ کو دل کا دورہ پڑا اور بعض ذرائع نے بتایا کہ یہ دورہ جان لیوا بھی تھا لیکن سعودی عرب نے کوئی زندہ ثبوت پیش کئے بغیر اس خبر کی تردید کردی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سعودی بادشاہ در حقیقت اپنے تحفظ کے لئے حسنی مبارک کو بچانا چاہتے تھے اور ان کی یہ گفتگو ان کے شدید خوف و ہراس کا عملی نمونہ ہے۔ سعودی بادشاہ اور ان کے ساتھیوں کو بخوبی معلوم ہے کہ اگر اس ملک کے شیعہ اکثریتی مشرقی علاقے میں احتجاج کی لہر اٹھی یا بحرین اور امارات کے عوام مصری اور تیونسی انقلابات کی راہ پر گامزن ہوجائیں تو تو امریکہ بالکل ویسا ہی موقف اخذ کرے گا جو اس نے مصری انقلاب کے سلسلے میں اخذ کیا اور وہ آمروں اور ملوک و شیوخ کا ساتھ چھوڑ دے گا۔بحرین / سہ پہر 15:30 بجے ــ بحرینی مظاہرین نے "منامة"، "مالجية" اور "محرق" نامی بڑی سڑکوں پر اجتماع کیا ہوا ہے اور ان کا ایک اہم نعرہ یہ ہے: "ہمیں ظالموں کی حکومت نہیں چاہئے نہیں چاہئے"۔بحرین / سہ پہر 16:00 بجے ــ بحرین میں ہونے والے مظاہرے میں اہل تشیع کے علاوہ کثیر تعداد میں اہل سنت برادران بھی شامل ہیں۔لیبیا / سہ پہر 16:10 بجے ــ لیبیا کی آمر "قذافی" نے فلسطینی عوام سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ "اسرائیل آپ کے مطالبات پر عملدرآمد نہیں کرے گا لہذا ان کے خلاف بغاوت کریں۔"قذافی ـ جو خود بھی زوال کی فہرست میں قرار دیئے جانے والے آمرین میں سے ہیں نے مزید کہا: "کشتیوں کا بیڑا غزہ تک پہنچنا چاہئے اور اسے غزہ کے عوام کے مسائل حل ہونے تک وہیں قیام کرنا چاہئے کیونکہ اس وقت عوامی انقلابات کا زمانہ ہے!"۔قذافی نے تیونسی انقلاب میں آمر کی حمایت کی تھی اور مصری انقلاب میں خاموش رہے اور حسنی مبارک کی سرنگونی کے بعد خاموشی پر کاربند رہے۔ قذافی نے کل اپنے عوام سے کہا تھا کہ "وہ حکومت پر کھل کر تنقید کریں" اور آج فلسطینیوں سے شورش کے لئے کہا ہے اور یہ عجیب و غریب خیالات ایک خوفزدہ آمر سے متوقع ہی ہوتے ہیں۔ یمن / سہ پہر 16:37 بجے ــ یمن کے شہر "تعز" میں مظاہرین اور سیکورٹی والوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ مصر / شام 17:17 بجے ــ مصری انقلاب میں نہایت عجیب اور غیر پیشہ ورانہ کردار کرنے والی استعماری نیوز ایجنسی ـ بي بي سي نے مصر سے خبر دی ہے کہ میدان التحریر میں سرکاری فورسز اور عوام کے درمیان جھڑپوں کے بعد مصری عوام میدان التحریر کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔ بحرین / شام 17:20 بجے ــ ہزاروں افراد منامہ میں مظاہرہ کررہے ہیں اور سرکاری فورسز اور عوام کے درمیان جھڑپین ہو رہی ہیں۔ سیکورٹی فورسز دارالحکومت میں بڑے حکومت مخالف مظاہرے کا سد باب کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ منامہ کی فضا میں کئی ہیلی کاپٹر پرواز کرتے دکھائے دے رہے ہیں۔ بحرین / شام 17:40 بجے ــ بحرین کے مغرب میں "کرزکان" نامی گاؤں میں بھی مقامی باشندوں اور سرکاری فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں بحرین میں 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ .......
/110