10 فروری 2011 - 20:30

حسنی مبارک کی تقریر سن کر میدان التحریر میں لوگوں نے ٹیلی ویژن سیٹ کو نیچے گرادیا/ نعرے: مبارک! دفع ہوجاؤ دفع ہوجاؤ / العالم سے گفتگو کرتے ہوئے بعض انقلابیوں نے صدارتی محل کی طرف جانے کا اراده ظاہر کیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، مصری آمر حسنی مبارک کی ریکارڈ شدہ تقریر ٹی وی سیٹ نشر ہوتے ہوئے میدان التحریر میں موجود لاکھوں مظاہرین نے غیظ و غضب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی وی سیٹ نیچے گرادی اور دفع ہوجاؤ کے نعروں میں شدت آگئی۔

حسنی مبارک نے اپنی پرانی باتین دہراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے تیس سالہ دور صدارت کے آخر (ستمبر 2011) تک اقتدار میں رہیں گے۔

مبارک نے بیرونی مداخلتوں کو مسترد کردیا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کا اشارہ امریکہ کی ظرف ہے جس کے صدر نے تھوڑی دیر پہلے مصر میں جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے نوجوانوں کی تحریک کو بظاہر سراہا تھا۔

مصری مظاہرین امریکی صدر کی تقریر اور کئی مصری وزراء کے استعفوں اور کل (10 فروری) کی شام کے وقت مبارک کے چلے جانے اور اقتدار کی فوج کو منتقلی کی خبریں سننے کے بعد مبارک کے استعفے کی توقع لے کر ٹیلی ویژن کے سامنے اکٹھے ہوئے تھے لیکن انہیں مایوسی ہوئی چنانچہ انھوں نے کل جمعہ کے دن اپنے تیار کردہ ایجنڈے میں نئے اقدامات شامل کرنے پر زور دیا اور انھوں نے اب "اِرحَل اِرحَل یا مبارک کے ساتھ ساتھ ارحل ارحل یا عمر سلیمان کے نعرے بھی لگانے شروع کئے ہیں۔

آمر مبارک کے بعد ان کے نائب عمر سلیمان نے بھی وہی باتیں دہرائیں اور بیرونی مداخلت کی شدت سے مخالفت کی اور بظاہر ان کا اشارہ بھی امریکہ کی جانب تھا۔

واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے نئی نسل کے مصر کی حمایت کے اعلان کے بعد صرف ایک حکومت مصری آمر کی بقاء کی بہرقیمت خواہاں ہے اور وہ ہے اسرائیل وہی اسرائیل جس کا مبارک اور سلیمان کے جانے کے بعد اپنی بقاء کے لئی کوئی سہارا نہیں ہے۔

بنیامین تتن یاہو نے کچھ دن قبل کہا تھا کہ مصر میں آمریت اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ اس ملک میں جمہوریت قائم ہو اور یہ جمہوریت صہیونی ریاست کے انہدام کا خواہاں اور اسرائیل کے وجود ہی کی مخالف ہو؛ سو لگتا ہے کہ اس وقت صرف اسرائیلی ریاست مبارک کی حمایت کررہی ہے اور مبارک اور ان کے نائب نے اسرائیل ہی کے سہارے عوام آواز کو نظر انداز کیا ہے اور اپنے بڑے آقا امریکہ کی خواہش کو ٹھکرا دیا ہے۔

تازه ترین اظلاعات کے مطابق مصری صدر کے غیر متوقعہ خطاب کے بعد امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ٹیم کا ہنگامی اجلاس صدر بارک اوباما کی سربراہی میں شروع ہوگیا ہے۔

مصری انقلاب؛ حسنی مبارک الوداع / ملکی باگ ڈور فوج کے حوالے کردی / اپڈیٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110