8 فروری 2011 - 20:30

اس سروے میں ایک بات کی طرف اشارہ نہیں ہوا ہے کہ پاکستان میں بہت سے ایسے خاندان بھی ہیں جو کسی زمانے میں غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے اور آج وہ خود مدد کے مستحق ہیں۔ ان دس سالوں میں پاراچنار جیسے کئی علاقے معاشی حوالے سے سو فیصد مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں اور پاراچنار کی ناکہ بندی ـ جو اپریل 2006 میں شروع ہوئی تھی تھوڑے دن بعد "چارسالہ" ہوجائے گی۔

ابنا: پاکستان میں غربت میں77 فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور اس کا منفی اور افسوس ناک اثر یہ ہوا کہ لوگوں میں غریبوں میں مدد کا رجحان بھی تقریباً نصف رہ گیا ہے۔

گیلپ پاکستان کے تحت کرائے جانیوالے ایک سروے میں چاروں صوبوں کے2738 شہریوں سے سوال کیا تھا کہ کیا غربت میں اضافہ ہوا ہے یا کمی ہوئی ہے تو77 فیصد پاکستانیوں نے گذشتہ دس برسوں میں غربت بڑھنے کا اعتراف کیا ہے۔غریب کی تعریف میں وہ لوگ شامل تھے جن کے پاس سر چھپانے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور جن کے پاس دو وقت کی روٹی کھانے کے وسائل بھی نہیں ہیں۔ 12 فیصد عوام کا کہنا تھا کہ صورت حال پہلے جیسی ہی ہے جبکہ گیارہ فیصد کا خیال تھا کہہ غربت میں کمی ہوگئی ہے۔اسی سروے میں ایک سوال پر لوگوں کا کہناتھا کہ غریبوں کی مدد کرنے کے رجحان میں47 فیصد تک کمی ہوگئی ہے۔28 فیصد کے خیال میں صورتحال برقرار ہے جبکہ24 فیصد کا کہنا تھا کہ غریبوں کی مدد کے رجحان بڑھ گیا ہے۔  بشکریہ از جنگ نیوز

 ........

/110

تصویر خود بولتی ہے کہ پاکستان میں غربت کیوں آئی: