27 دسمبر 2010 - 20:30

کانفرنسوں میں سونا ایک عام عادت بن گئی ہے جس کا آخری نمونہ سعودی عرب میں وہابیوں کی فقہی کانفرنس میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کانفرنس ہال میں سونے کا مزہ ہی الگ ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کانفرنسوں میں نیند اور خواب آلودگی ایک عام سی روایت بنی ہوئی ہے؛ اکثر مہمان کانفرنسوں  میں آرام کیا کرتے ہیں اور بعض تو روزمرہ کے مشاغل سے تھکاوٹ کا احساس کرکے کسی کانفرنس میں شرکت کی حامی بھرتے ہیں تا کہ وہاں جاکر نیند کے مزے لیں۔

یہ بات عرب حکمرانوں کے بارے میں تو اور بھی عام ہے؛ گو کہ ان کا کوئی کام کاج نہیں ہوتا لیکن تفریح سے بھی بیچارے تھک جاتے ہیں چنانچہ عرب لیگ کانفرنسوں کا انعقاد کرکے سارے عرب ممالک کے بادشاہ، شیوخ اور آمرین ـ جو اسرائیل کے سامنے کبھی بھی اتحاد کا اظہار کرتے نظر نہیں آتے ـ سونے کے مزے لینے کے لئے اکٹھے ہوجاتے ہیں اور جب آپ نشستوں کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو ان ہی عرب حکمرانوں کی کیفیت یکسان دیکھتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے

 کہ چلئے نیند کے حوالے سے ہی سہی، یہ حضرات متحد نظر آہی گئے۔

عرب حکمرانوں سے یہ عادت اب وہابی مولویوں تک بھی سرایت کرگئی ہےعلماء حضرات سعودی عرب میں منعقدہ اس کانفرنس میں فقہی مسائل پر بات چیت اور گفتگو کے لئے جمع ہوئے ہیں یہ کانفرنس سعودی عرب کے بڑے مفتی شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل شیخ کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔

کانفرنس تھوڑی دیر تک ہی چل سکی لیکن بعد میں اس کا نقشہ بدل گیا۔

عرب اخبارات نے اس کانفرنس کی تصاویر ہی شائع کی ہیں لیکن یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کانفرنس میں شریک علماء نے کیا کہا اور سننے والوں نے کیا سنا؟ البتہ سننے والے تو سو رہے تھے ...!

اس رپورٹ میں مہر نیوز کی رپورٹ سے بھی استفادہ کیا گیا۔

۔۔۔۔۔

/110