ان دشوار لمحات میں علی (ع)، جعفر طیار، عقیل، امام حسن(ع) اور سیدالشہداء (ع) کے بیٹے اکٹھے ہوئے ایک دوسرے سے گلے ملے اور وداع کیا۔ حدیث میں ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قریش کے چند نوجوانوں کو دیکھا جو حسین اور نورانی چہروں کے مالک تھے۔ پیغمبر اکرم (ص) انہیں دیکھ کر غمگین ہوئے۔ اصحاب نے سبب پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "ہم ایک ایسا خاندان ہیں خدا نے ہمارے لئے آخرت کو پسند کیا ہے دنیا کو نہیں۔ مجھے وہ مصائب یاد آئے جو میری امت میرے فرزندوں پر وارد کرے گی۔ میرے امتی انہیں قتل کریں گے یا انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کریں گے"۔ کربلا میں یزیدیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے فرزندان رسول (ص) میں سے تین افراد عبداللہ بن جعفر طیار و زینب کبری(س) کے بیٹے اور تین افراد حضرت عباس(ع) کے سگے بھائی یعنی حضرت زپنب (س) کے بھائی تھے۔ فرزندان زینب سلام اللہ علیہا"عون"، "محمد" اور "عبیداللہ" حضرت زینب اور عبداللہ بن جعفر کے بیٹے تھے، جو اپنی والدہ کے ہمراہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی نصرت کے لئے کربلا آئے تھے۔ انھوں نے جب اپنے ماموں اور اپنے زمانے کے امام کی تنہائی دیکھی تو ایک ایک کرکے میدان کارزار میں اترے اور اپنی جانیں اسلام عزیز پر قربان کردیں۔ "عون" اپنی والدہ زینب سلام اللہ علیہا کی فکرمند آنکھوں کے سامنے میدان کی جانب گئے جبکہ رجز پڑھ رہے تھے:
ان تنکرونی فانابن جعفرشہید صدق فی الجنان ازہریطیر فیہا بجناح اخضرکفی بہذا شرفا فی المحشراگر تم مجھے نہیں جانتے تو میں جعفر کا بیٹا ہوںوہی جو صدق و حقیقت کی راہ میں شہید ہوکر فردوس بریں میں چمک رہے ہیںوہی جو جنت کے اوپر سبز پروں کے ذریعے پرواز کررہے ہیںاور یہی نسب و شرف روز محشر کے لئے کافی ہے
عون نے یزیدی لشکر کے تین سواروں اور 18 پیدل سپاہیوں کو واصل جہنم کیا اور آخرکار لشکر یزید کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر گئے۔ان کے بعد ان کے بھائی محمد اور عبیداللہ بھی حق و حقیقت کا دفاع کرتے ہوئے لشکر یزید کے ہاتھوں شہید ہوئے۔زینب (س) کے بھائی«عباس»، عبداللہ، «جعفر» اور "عثمان" امام حسین علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے چار سوتیلے بھائی تھے۔ ان کی والدہ کا نام "فاطمہ ام البنین(س)" تھا۔ جب حضرت ابوالفضل العباس نے مشاہدہ کیا کہ اہل بیت میں سے بھی کئی افراد شہید ہوچکے ہیں تو انھوں نے اپنے تین سگے بھائیوں سے کہا: "پیارے بھائیو! میں چاہتا ہوں کہ تم میری نظروں کے سامنے میدان کارزار میں اترو تا کہ میں خدا اور رسول خدا (ص) کی راہ میں تمہارے اخلاص کا مشاہدہ کروں»۔عباس (ع) کے تین بھائی باری باری میدان میں چلے گئے اور اپنے رجز میں سب نے "فرزند علی (ع)" کے عنوان سے اپنا تعارف کرایا اور علوی و ہاشمی شجاعت کے کارنامے تاریخ کے صفحات پر رقم کرکے شہید ہوئے۔ عثمان بن علی کے بارے میں امیرالمؤمنین نے فرمایا: "میں نے اپنے بھائی (صحابی رسول اللہ (ص)) عثمان بن مظعوں کے نام پر اپنے اس بیٹے کا نام "عثمان" رکھا"۔ عثمان 21 سالہ نوجوان تھے۔ جب دشمنان خدا ان کی دلاورانہ جنگ کے سامنے عاجز آئے تو انھوں نے اس ہاشمی نوجوان کو قتل کرنے کے لئے تیراندازی کا سہارا لیا۔ "خولی" نے ان کا پہلو اپنے تیر کا نشانہ بنایا اور ثانی زہرا (س) کے بھائی زین سے زمین پر آرہے اور اسی حال میں ایک شقی القلب یزیدی نے ان کے مجروح جسم پر حملہ کیا اور انہیں شہید کرکے ان کا سر تن سے جدا کیا۔ثانی زہراء زینب کبری سلام اللہ کے چھ بھائی کربلا میں شہید ہوئے۔ کربلا کی اس شیرزن نے نصف یوم کے دوران اپنے کئی بیٹوں، بھائیوں، بھتیجوں اور چچازاد بھائیوں کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا اور ان کے سروں کا نوک سناں پر مشاہدہ کیا...
الا لعنة اللہ علی القوم الظالمین و سیعلم الذین ظلموا ایّ منقلب ینقلبون
-----
اصلی منابع:
1. سيد بن طاووس ؛ اللهوف في قتلی الطفوف ؛ قم: منشورات الرضي، 1364 .
2. شيخ عباس قمي ؛ نفس المهموم ؛ ترجمه و تحقيق علامه ابوالحسن شعراني ؛ قم: انتشارات ذويالقربی، 1378 .