پاکستان کو خدشہ ہے کہ اسامہ بن لادن امریکا کو مل گیا تو امریکا اسلام آباد کو پہلے کی طرح تنہا چھوڑ دے گا ۔انہی خدشات کی وجہ سے پاکستان امریکا کے ساتھ کھل کے تعاون نہیں کر رہا ۔یہ بات سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے واشنگٹن کو بھیجے گئے مراسلے میں کہی تھی۔ جو انہوں نے ، 21فروری 2009 کو امریکا بھیجا تھا ۔وکی لیکس نے یہ مراسلہ بھی جاری کر دیا ہے ۔اس میں سابق امریکی سفیر نے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکا ایک دوسرے پر انحصار کیے بغیر نہیں رہ سکتے تاہم پاکستان کو خدشہ ہے کہ اسامہ بن لادن امریکا کو مل گیا تو امریکا اسلام آباد کو پہلے کی طرح تنہا چھوڑ دے گا ۔انہی خدشات کی وجہ سے پاکستان امریکا کے ساتھ کھل کے تعاون نہیں کر رہا ۔مراسلے میں لکھا گیا کہ القاعدہ پاکستان میں اپنے لیے محفوظ ٹھکانوں سے کچھ زیادہ کرناچاہتی ہے ۔القاعدہ ،،طالبان ،مقامی انتہا پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے بڑھتے گروہ کوشکت دینے میں 10سے 15سال لگیں گے ۔موجودہ پاکستانی حکومت اور امریکا کے درمیان تعلقات پر این ڈبلیو پیٹڑسن نے کہا کہ ا س وقت زرداری امریکا کے بہترین اتحادی ہیں۔ واشنگٹن زرداری حکومت کو پانچ سال پورے کرنے میں مدد کرے کیونکہ ا نتہا پسند کمزور سویلین حکومت کو استعمال کر سکتے ہیں یا آمریت واپس آسکتی ہے ۔
......
/110