ابنا: یہ رپورٹ آکسفیم ، ایمنسٹی انٹرنشیل اور سیو دی چلڈرن سمیت مختلف اکیس تنظیموں نے مرتب کی ہے۔جس کا نام غزہ کی مسلسل ناکہ بندی ہے۔فلسطینی علاقے میں کام کرنے والی امدادی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ سے زیادہ تر برآمدات پر پابندی کی وجہ سے معیشت مخدوش ہو رہی ہے۔آکسفیم انٹرنیشل کے ڈائریکٹر جرمی ہوپس کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے اور ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری کی عدم توجہ کی وجہ سے غزہ میں فلسطینی صاف پانی کی عدم دستیابی، بجلی، روزگار اور پر امن مستقبل کے حوالے سے محرومی کا شکار ہیں۔صہیونی ریاست کی اس بربریت پر عرب ممالک کی خاموشی اور امریکہ کے ساتھ ان کا تعاون امت مسلمہ کے لئے بڑی تکلیف کا باعث ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عرب رہنماؤں سے فلسطینی عوام کی حمایت کی توقع رکھنا بالکل غلط ہے کیونکہ اکثر عرب رہنما امریکی آلہ کار ہیں اور وہ امریکی حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں۔
.......
/110