اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یمن کی حوثی تحریک کے ترجمان نے ذرائع کو بتایا کہ یمن کے شمال میں شیعیان اہل بیت (ع) عید غدیر کی جشن کی تیاریوں میں شرکت کے لئے جارہے تھے کہ بارود بھری کار کے پھٹنے سے سترہ افراد شہید اور 15 افراد زحمی ہوگئے۔ ترجمان حوثی تحریک، محمد عبدالسلام نے کہا شیعیان یمن کا ایک قافلہ ـ جشن غدیر کی تیاریوں میں شرکت کے مقصد سے ـ شمالی یمن کے صوبہ الجوف سے گذررہا تھا کہ ایک دہشت گرد نے بارود بھری کار قافلے سے ٹکرادی جس میں دہشت گرد بھی ہلاک ہوگیا۔ دریں اثناء ایک یمنی قبیلے کے سربراہ نے کہا کہ یہ حملہ ایک خودکش حملہ تھا جس نے بارود بھری کار کے ذریعے شیعیان یمن کے قافلے کا راستہ بند کردیا اور قافلہ پہنچا تو اس نے گاڑی کو دھماکے سے اڑالیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ حملہ القاعدہ ہی کا ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال ان ہی دنوں کے دوران شیعیان یمن کو یمنی حکمرانوں اور امریکہ سمیت سعودی عرب اور کئی دیگر عرب ممالک طرف سے چند طرفہ جارحیت کا سامنا تھا اور اس جنگ میں خوراک و ادویات اور جدید ہتھیاروں سے محروم شیعہ مجاہدین نے تمام جارح قوتوں کو شکست کا مزہ چکھادیا اور جنوری میں سعودی عرب اور یمنی حکومت نے بامر مجبوری جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن اس سال کے وسط سے شمالی یمن کے قبائل کے درمیان اختلاف ڈال کر اس علاقے کو ایک بار پھر ـ ساتویں ـ جنگ میں دھکیلنے کی امریکی، یمنی اور سعودی سازشیں شروع ہوگئی تھیں اور آج یہ سازشیں رنگ لائیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ شیعہ دشمن قوتیں یمنی قبائل میں ابھی تک مؤثر اختلافات نہ ڈال سکے ہیں اور انھوں نے بیشتر بین الاقوامی سازشوں کی طرح اس بار بھی القاعدہ کا دامن تھام لیا ہے مگر ابھی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کا حوثی مجاہدین کا ممکنہ رد عمل کیا ہوسکتا ہے۔ ........./110
23 نومبر 2010 - 20:30
News ID: 214448
جشن غدیر کے لئے جانے والے شیعیان یمن کے ایک قافلے پر ایک دہشت گرد نے بارود بھری کار کے ذریعے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 17 افراد شہید ہوگئے۔