19 نومبر 2010 - 20:30

پیپکو ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی سے رینٹل پاورپلانٹ کا معاہدہ موجودہ حکومت کا پہلا اور ملکی تاریخ کا مہنگا ترین پلانٹ ہے جس کا کرایہ ادا کرنے کیلئے ہر ماہ بجلی کے نرخ2فیصد بڑھانے کے سواکوئی چارہ نہیں ، حکومت خسارہ کم نہیں کر سکی ۔

پیپکو ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد پرائیویٹ پاور انفراسٹرکچر بورڈ کے ذریعے ترکی کے اس رینٹل پلانٹ سے فی یونٹ 16 روپے بجلی کا معاہدہ کیاہے ۔ذرائع نے بتایا کہ5.98 سینٹ کرایہ اور12 سینٹ فرنس آئل کی قیمت ہو گی ۔پیپکوذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے خود معاہدہ کیا اورپاور پلانٹ منگوا کر پیپکو کے حوالے کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مہنگے رینٹل پلانٹ کا کرایہ ادا کرنے کیلئے سبسڈی کی بجائے ہر ماہ ٹیرف 2فیصد بڑھا کر بوجھ صارف پر ڈالا جائیگا ۔اس طرح فی یونٹ قیمت مرحلہ وار ساڑھے نو روپے سے15 روپے تک بڑھائی جائیگی ۔پیپکو کا خسارہ اسی طرح ختم ہو سکے گا۔ پیپکو کے ایک سابق ایم ڈی نے لاہورمیں جیونیوز کو بتایا کہ کوئی سرمایہ کار موجودہ حکومت سے رینٹل پاور کا معاہدہ کرنے پر تیار نہیں۔ انھوں نے کہا کہ مشرف دور کے معاہدوں سے1900 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو چکی ہے جس کا کریڈٹ یہ حکومت لے رہی ہے۔

جنگ نیوز کا شکریہ

۔۔۔۔۔۔۔۔

یادرہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے کئی بار پاکستان کو سستی بجلی کی فراہمی کی پیشکش کی ہے لیکن چونکہ اس میں کمیشن دینے اور لینے کی گنجائش نظر نہیں آتی لہذا پاکستانی حکام جو اپنی جیب کو قومی خزانے پر فوقیت دینے کے قائل ہیں اس پیشکش کو عملی جامه پہنانے سے قاصر ہیں:

- ماشا اللہ شاکری اور ماشا اللہ ہم...نقش خیال…عرفان صدیقی

- ایران کی پرکشش پیشکش؛ حقائق اور رکاوٹیں