سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پینیٹا کے مطابق یہ بات سی آئی اے حکام سے پوچھ گچھ کے بعد سامنے آئی ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں افغانستان کے علاقے خوست میں امریکی اڈے پر بم دھماکہ ہوا تھا جس میں سات سی آئی اے اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آور القاعدہ کا ڈبل ایجنٹ حمام خلیل ابو ملال بلاوی تھا۔ افغانستان میں تعینات سی آئی اے حکام زیادہ تجربہ کار نہ تھے اور حمام خلیل کے بارے میں ٹھوس معلومات نہ رکھتے تھے۔ اسی لیے وہ سی آئی اے کا ایجنٹ بننے میں کامیاب ہوا اور بعد میں اس نے دھماکہ کرڈالا۔ سی آئی اے سربراہ کا کہنا ہے کہ بیس پر موجود افسران کو معطل نہیں کیا جائے گا، نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔
.........
/110