29 دسمبر 2010 - 20:30

آج ٹی وی نے رپورٹ دی ہے کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار اقدس پر حملہ کرنے والے خودکش حملہ آور کی شناخت ہوگئی ہے اور اس کے باپ کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن شیعیت نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکش خودکش بمبار قرار دیا جانے والا نصیب اللہ زندہ سلامت گھر پہنچ گیا ہے جس سے البتہ یہ بات بھی مشکوک سی بن گئی ہے کہ جمعرات کے حملے خودکش بھی تھے یا نہیں!!

آج ٹی وی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ کراچی میں عبداللہ شاہ غازی رحمت اللہ علیہ کے مزار پر خودکش دھماکا کرنے والے شخص کی شناخت ہوگئی ہے اور اس کا نام نصیب اللہ ہے اور اس کے والد امین اللہ کی بھی شناخت ہوگئی ہے اور سی آئی ڈی نے اس کے والد کو گرفتار کیا ہے لیکن شیعیت نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکش خودکش بمبار قرار دیا جانے والا نصیب اللہ زندہ سلامت گھر پہنچ گیا ہے جس سے البتہ یہ بات بھی مشکوک سی بن گئی ہے کہ جمعرات کے حملے خودکش بھی تھے یا نہیں!!شیعیت نیوز کی مطابق مزار پر خودکش حملوں میں ملوث کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے 3 ملزمان اورنگی ٹاؤن مومن آباد تھانے کی حدود میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار ہوچکے ہیں اور یہ کہ ملزمان پر خودکش بمباروں کی معاونت کی تھی اور ملزمان نے خودکش بمباروں کو اپنے گھر میں پناہ دی اور خودکش حملے کی  تیاری کا سامان فراہم کیا تھا اور خودکش بمبار عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر کارروائی کے لئے یہیں سے روانہ ہوئے۔ گرفتار ملزمان میں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے3 ملزمان اسد اللہ ، کامران اور شفیق شامل ہیں۔

سوال: کیا واقعی دہشت گردی کا یہ اقدام خودکش حملہ تھا یا پھر حکومت نے ۔ معمول کے مطابق ۔ اپنے فرائض منصبی سے غفلت کی پردہ پوشی کی ایک بار پھر کوشش کرتے ہوئے اس حملے کو خودکش قرار دینے کی ناکام کوشش کی ہے!؟۔