28 ستمبر 2010 - 20:30

ہندوستان میں بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعے پر جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ ساڑھے تین بجے اپنا فیصلہ سنائے گی۔

ہائی کورٹ نے بھی کل کے فیصلے کے لیے کئی احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کی جس عدالت کے ذریعے یہ فیصہ سنایاجائےگا اس میں صرف مقدمےکے فریقین اور ان کے وکلا کو ہی آنے کی اجازت ہو گی۔جمعرات کو صحافی اور دیگر وکلاء بھی اس عدالت میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ہائی کورٹ کے حکم پر ضلع انتظامیہ نے کلکٹوریٹ کے احاطے میں صحافیوں کے لیے انتظام کیا ہے۔ہائی کورٹ کا فیصلہ عام کرنے کے لیے ایک خصوصی ویب سائٹ تخلیق کی گئی ہے جس پر فیصلے کا خلاصہ ، فیصلے پر عملدرآمد کا متن اور مکمل فیصلہ موجود ہو گا۔ہائی کورٹ کی طرف سے جاری کیےگئے ایک نوٹ میں صحافیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جب تک فیصلے کی نقل اور اس کا متن خود نہ پڑھ لیں تب تک وہ عدالت کے فیصلے کے بارے میں کسی طرح کی قیاس آرائی نہ کریں۔حکومت نے اشتعال انگیز پیغامات کو روکنے کے لیے موبائل فونز پر اجتماعی یا بلک ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس وغیر بھیجنے پر تیس ستمبر تک روک لگا دی تھی اور اس میں مزید توسیع پر غور کیا جا رہا ہے۔مرکزی حکومت نے مدد کے لیے فضائیہ سے پہلے سے ہی تیار رہنے کو کہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فورسز کی تعیناتی فوری طور پر کی جا سکے۔ پولیس اور پیراملٹری فورسز کو بھی تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔مرکزی حکومت نے مدد کیے لیے فضائیہ سے پہلے سے ہی تیار رہنے کو کہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فورسز کی تعیناتی فوری طور پر کی جا سکے .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110