صدر جناب احمدی نژاد نے نیویارک میں علماء اور اسلامی دانشوروں اور اہم شخصیتوں سے خطاب میں کہا ہےکہ مغربی ممالک جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے کرتےہیں ان کے یہ دعوے جھوٹےہیں۔ انہوں نے نمونہ کے طورپر کہا کہ اس وقت امریکہ میں ترپن خواتین کو موت کی سزا سنائي گئي ہے لیکن ایران میں ابھی تک سکینہ محمدی آشتیانی پر مقدمہ چل رہا ہے اور عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا ہے لیکن اس بہانے سے ایران کے خلاف نہایت وسیع پیمانے پرپروپگینڈا کیا جارہا ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ دہشتگردی سے مقابلہ عملی طورپر امت اسلامی سے مقابلے میں تبدیل ہوگيا ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ نیٹو کی افواج نے اپنے اس گمان کی بناپر کہ گيارہ ستمبر کے واقعات میں ملوث کچھ لوگ افغانستان میں چھپے ہیں اس ملک پرحملہ کردیا اور افغانستان کے مظلوم عوام کو خاک وخون میں غلطاں کررہی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ اعداد وشمار کےمطابق گيارہ سمتبر کے واقعات میں تقریبا تین ہزار افراد مارے گئےہیں ہمیں بھی اس بات پردکھ ہے لیکن افغانستان میں اب تک ایک لاکھ دس ہزار افراد تہ تیغ ہوچکےہیں اور یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ قتل عام کب تک جاری رہے گا۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ اگر گيارہ ستمبر کے بارےمیں امریکی دعووں کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو کیا دہشتگردی سے مقابلہ کی یہ روش ہے کہ افغانستان کی پہاڑیوں میں روپوش چند افراد کے بہانے افغانستان پرقبضہ کرلیا جائے؟ انہوں نے عراق میں قابض افواج کےہاتھوں دس لاکھ افراد کی ہلاکت کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ قابض افواج دراصل دہشتگردوں سے انتقام نہیں لے رہی ہیں بلکہ مسلمانوں سے انتقام لے رہی ہیں۔ صدر احمدی نژاد نے علماء اور دانشوروں سےخطاب میں کہا کہ آج دین اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا اسلام اور مسلمین کے دشمن اسلام کے ترقی کرنے سے خوش نہیں ہیں اور اختلاف وتفرقہ پھیلاکر اس راہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتےہیں۔ انہوں نے امریکہ میں قرآن کی بے حرمتی کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ یہ واقعہ شدید کینے اور دشمنی کی نشانی ہے اور یقینا ایک گروہ کے اس مذموم اقدام کا ذمہ دار عیسائيت کو قرارنہیں دیا جاے گا۔ انہوں نے کہا کہ علماء اور دانشوروں کی ذمہ داری ہےکہ وہ انسانیت کو حقیقی اسلام سے آگاہ کریں ۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ اسلام قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عظیم الشان ذات صرف مسلمانوں سے مخصوص نہيں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110