18 ستمبر 2010 - 19:30

حکومت ہندوستان نے اسلامی جمہوریۂ ایران کے انگریزی چینل پریس ٹی وی پر پابندی عائد کردی ہے۔

حکومت ہند نے پریس ٹی وی پر الزام لگایا ہے کہ اس نے قرآن سوزی کی فلمیں نشر کرکے عوام میں اشتعال پھیلانے کی کوشش کی ہے حالانکہ پریس ٹی وی نے عوام کی آگاہی کے لئے اس دلخراش سانحے  کی رپورٹنگ کی تھی۔
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے حوالے سے جانا جاتا ہے چنانچہ اس کے اس قسم کے فیصلے پر جتنی تشویش ظاہر کی جائے کم ہے۔
لگتا ہے کہ حکومت ہندوستان امریکہ کا ساتھ دینے اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے نیز وائٹ ہاؤس کو خوش کرنے کے لئے اس طرح کے اقدامات انجام دے رہا ہے۔
دوسری طرف اگر ہندوستان اور غاصب صہیونی ریاست کے درمیان موجود گہرے روابط کا جائزہ لیا جائے تو پریس ٹی وی پر حالیہ پابندی کے اوپر بھی ان ہی تعلقات کا سایہ نظر آتا ہے۔
ہندوستان نے گزشتہ چند سالوں میں نہ صرف امریکہ کے ساتھ ایٹمی مسئلے پر دس مختلف معاہدے اور سمجھوتوں پر دستخط کئے ہیں بلکہ ہندوستان اور غاصب صہیونی ریاست کے درمیان روزافزوں فوجی تعلقات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
دوسری جانب اگر ہندوستان کی داخلی صورتحال اور عوامی موقف کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو مسلمان ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت ہیں جس کی کسی اور ملک میں مثال نہیں ملتی۔
ہندوستان میں اس وقت بیس کروڑ مسلمان بستے ہیں اور یہ مسلمان ہندوستان کے قوانین کا احترام کرتے ہیں لہذا حکومت ہندوستان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسلامی مقدسات اور ان مسلمانوں کے احساسات و جذبات کا احترام کرے۔
ہندوستان کے مسلمانوں نے کئي بار اسلامی مقدسات بالخصوص قرآن مجید کی توہین کے خلاف اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا احساس دلایا ہے کہ ہندوستانی مسلمان ان مسائل میں غیر جانبدار اور لاتعلق نہیں ہیں۔
ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف سے فلسطین اور غزہ کے مسئلے نیز گستاخان رسول (ص) سلمان رشدی اور بنگلہ دیش کی مصنفہ تسلیم نسرین کے خلاف مظاہرے اور احتجاج اس کی زندہ مثالیں ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت ہندوستان نے پریس ٹی وی کی مقبولیت، اس کے اثرات اور پوری دنیا میں مسلمانوں کی بیداری کی وجہ سے اس ٹی وی چینل پر پابندی لگائي ہے جبکہ دوسری طرف ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی کئی عشروں پر محیط علیحدگي پسندانہ تحریک نے نئی دہلی کی پالیسیوں کو چیلنج کررکھا ہے جس کی وجہ سے حکومت ہندوستان مختلف سوالوں کی زد میں ہے۔
اس صورتحال میں جب حکومت ہندوستان نے مسلمانوں کے حقوق کی حمایت اور ان کے جائز تاریخی اور قانونی مطالبات سے روگردانی کر رکھی ہے پریس ٹی وی پر پابندی اور زيادہ اہمیت اختیار کرگئي ہے۔
پریس ٹی وی جو مختلف حکومتوں کی طرف سے مسلمانوں کو کچلنے کی منفی پالیسیوں اور اسلامی مقدسات کی توہین جیسے اقدامات کو آشکار کررہا ہے اس پر پابندی ہرگز درست اقدام نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110