18 اگست 2010 - 19:30

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: بعید از قیاس ہے کہ وہ ایسی کسی حماقت کا ارتکاب کریں؛ لیکن اگر اس طرح کا کوئی خطرہ پیش آئے تو سب کو جان لینا چاہئے کہ اس جنگ اور مقابلے کا میدان صرف ہمارا خطہ نہ ہوگا بلکہ اس جنگ کے میدان کی حدود علاقے سے بہت آگے تک ہونگی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کل سہ پہر کو اعلی سول اور فوجی حکام سے خطاب کرتے ہوئے اہم اندرونی اور بیرونی مسائل میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیوں کی تشریح کی اور رمضان المبارک کے مہینے کو سیاسی اور سماجی پہلوؤں پر توجہ، خلوص، طہارت، پاکیزگی اور توبہ و انابہ کا اہم موقع قرار دیا اور باہمی ہمدردی و اتحاد کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حکام کے درمیان اتحاد و یکجہتی ایک اہم فریضہ اور بھاری ذمہ داری ہے جان بوجھ کر اتحاد و یکجہتی کو پارہ پارہ کرنا غیر شرعی عمل ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ماہ رمضان المبارک کو تضرع، توبہ و انابہ اور اللہ تعالی کے حکم کے سامنے دل و جان سے تسلیم ہونے، طہارت و پاکیزگي، آلودگیوں سے دور اور پاک و صاف رہنے کا مہینہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: رمضان المبارک ہمیشہ کی طرح، شب و روز میں نمازیں ادا کرنے، بیدار رہنے اور اللہ تعالی کے ساتھ راز و نیاز کرنے اور دل و جاں میں نورانیت و درخشندگی  پیدا کرنے کے لحاظ سے ایک اہم اور بے نظیر موقع ہے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے  رمضان المبارک کی خصوصیات میں توبہ و انابہ کو  ایک اہم خصوصیت قراردیا اور اس سلسلے میں اعلی حکام اور اہلکاروں کی سنگین ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ و انابہ نیز غلط راستے پلٹنے اور غلط فکر و نظر سے باز گشت کے لئے ضروری ہے کہ انسان سب سے پہلے غلطیوں، غفلتوں اور خطاؤں کو اچھی طرح پہچان لے۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انفرادی اور اجتماعی تمام شعبوں میں توبہ اور باز گشت کے دائرے کو بہت بڑا اور وسیع قراردیتے ہوئے فررمایا: وہ تمام افراد جو معاشرے کے مختلف میدانوں میں کسی نہ کسی وجہ سے  اثر و رسوخ رکھتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اپنی رفتار اور گفتار اور اپنے زیر نظر اہلکاروں ، اداروں کی رفتار اور عمل پر اچھی طرح نظر رکھیں کیونکہ اگر زیر نظر اہلکاروں اور اداروں کی خطائیں اور غلطیاں متعلقہ افسر کی رفتار و گفتار کی روشنی میں ہوں تو یہ غلطیاں اس افسر اور ا س ذمہ دار فرد کے نامہ اعمال میں درج ہونگی۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے  توبہ اور عمل و فکر کی تصحیح کا اصلی مقصد و ہدف ،تقوی الہی قراردیتے ہوئے فرمایا: تقوی کا انفرادی پہلو یہ ہے کہ انسان محرمات کو ترک کرے اور واجبات کو انجام دے لیکن تقوی کے اس سے اہم پہلو بھی ہیں جن کے بارے میں اکثر غفلت کی جاتی ہے۔۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صحیفہ سجادیہ کی دعائے شریفہ مکارم الاخلاق کی روشنی میں عدل و انصاف کے فروغ ، غیظ و غضب اور غصہ پر کنٹرول ، اصلاح ذات البین ، اتحاد و یکجہتی اور معاشرے میں پائے جانے والے بحران کو ختم کرنے کے سلسلے میں کوشش، ایکدوسرے سے کسی وجہ سے دور  ہوجانے والےمؤمن بھائیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے سلسلےمیں تلاش و کوشش جیسے امور کو تقوی کے اہم امور قراردیتے ہوئے فرمایا: آج ہمارے سیاسی مسائل بھی اسی قسم کے ہیں۔۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تمام شعبوں اور حصوں میں عدل و انصاف کے فروغ کو تقوی کا سب سے اعلی اور اہم پہلو قراردیتے ہوئے فرومایا:  انتظامیہ، عدلیہ اور اجتماعی شعبوں میں عدل وانصاف، وسائل اور مواقع کی تقسیم میں عدل و انصاف، افراد کے انتخاب میں عدل و انصاف ، حقیقی معنی و مفہوم میں عدل وانصاف کے مصادیق ہیں۔رہبر معظم انقلاب اسلامی نے  عمل و فکر کو منحرف کرنے والے غصہ اور غیظ و غضب کو قابو میں رکھنے کو تقوی کا ایک اور پہلو قراردیا اور اختلاف پھیلانے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: کچھ لوگ سیاسی گروہوں اور ان سے وابستہ افراد کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے اور تفرقہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور دشمن کی ان حرکتوں کا مقابلہ الہی تقوی کے روشن اور بارز مصادیق میں شامل ہے۔۔

آپ نے فرمایا: ہمارے خلاف تشہیراتی مہم روز اول سے ہی جاری رہی۔ انھوں نے ہمارے خلاف ہر قسم کے اقدامات کئے؛ ہمیں اندرونی طور پر مورد الزام ٹہرایا؛ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ سے لے کر عام شہری اجتماعات، نماز جمعہ کے اجتماعات تک کی توہین و بے حرمتی کی، بے بنیاد اور ناروا الزامات کا نشانہ بنایا؛ عالمی تشہیراتی مہم کا سلسلہ بھی جاری رہا؛ انھوں نے وسیع وسائل سے ہمارے خلاف استفادہ کیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن ماضی میں بھی یہ سلسلہ آج سے کم نہ تھا۔رہبر انقلاب نے فرمایا: اندرونی تخریبکاری کا سلسلہ بھی آج کے دور سے مختص نہیں ہے؛ 2003 میں عراق پر قابضین کے حملے کے بعد تہران میں بلوے پھوٹ پڑے اور اس وقت کے صدر امریکہ کی مشیر سیاہ فام خاتون نے ـ جو بعد میں امریکہ کی وزیر خارجہ بنی ـ کہا تھا کہ "ہم ایران میں ہر قسم کے بلوؤن اور بغاوت کی حمایت کرتے ہیں"؛ اس نے صراحت کے ساتھ اس بات کا اعلان کیا۔ انہیں امید تھی کہ تہران میں کوئی بڑا واقعہ رونما ہوگا اور گذشتہ سال بھی انھوں نے اسی قسم کے بلوؤں کی حمایت کی، جو سب کو یاد ہے؛ لہذا آج جو خطرات ہیں یہ ہمیشہ تھی اور یہ خطرات نئی نہیں ہیں؛ میں ان سب کے بارے میں تھوڑی سی وضاحت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: میری پہلی وضاحت مذاکرات کے سلسلے میں ہے؛ یہ جو امریکی مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہیں یہ بری بات نہیں ہے؛ یہ تجویز بھی نئی نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی امریکی حکومتوں نے ہمیں مذاکرات کی دعوتیں دی ہیں۔ ہم یہ تجاویز ہمیشہ سے رد کرتے آئے ہیں اور ہمارے پاس اس بات کی دلیل بھی تھی. ان دلائل میں سے ایک اہم دلیل یہ ہے کہ دھونس دھمکی اور دباؤ کے سائے میں مذاکرات، مذاکرات نہیں ہوتے. ایک طرف سے بڑی طاقت کی مانند ہم پر دباؤ ڈالے اور دھمکی دے اور پابندیاں لگائے اور ایک آہنی مکّا دکھا دے اور دوسری طرف سے کہہ دے کہ بہت خوب اب میز پر بیٹھ کر مذاکرات کریں۔ یہ مذاکرات، مذاکرات نہیں ہیں اور اس طرح کے مذاکرات ہم کسی سے بھی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں؛ لہذا امریکہ ہمیشہ سے یہی چہرہ لے کر مذاکرات کے کمروں میں داخل ہوتا رہا ہے۔ آپ نے مزید فرمایا: اس سلسلے میں ہمارے پاس دو مختصر سے تجربات بھی ہیں: ایک بار عراق کے مسائل کے بارے میں دو طرفہ مذاکرات کی تجویز آئی؛ میں نے ایک عمومی خطاب میں کہا کہ ہم یہ مذاکرات قبول کرتے ہیں؛ اور مذاکرات بھی ہوئے۔ ایک بار مذاکرات کی تجویز سابقہ حکومتوں کے دور میں تھی۔ اس وقت امریکیوں نے پیغام دیا کہ سلامتی سے متعلق ایک اہم موضوع ہے جس کے بارے میں مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری حکومت نے امریکیون کے ساتھ مذاکرات کے دو تین دور مکمل کئے۔ آپ نے فرمایا: امریکی عام طور پر مذاکرات میں ایسے ہی ہیں کہ جب درست اور وزنی دلیل پیش کرنے سے عاجز ہوتے ہین اور جب کوئی قابل قبول دلیل پیش نہیں کرسکتے تو جبر کا دامن تھام لیتے ہیں اور چونکہ ان کا جبر اور ان کی زبردستی اور دھونس دھمکی اسلامی جمہوریہ ایران پر اثرانداز نہیں ہوتے؛ تو وہ یکطرفہ طور پر مذاکرات بند کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔؛ اچھا! تو اب یہ کس قسم کے مذاکرات ہیں؟ رہبر معظم نے فرمایا: ہمارے پاس اس طرح کے تجربات پہلے سے موجود ہیں۔ البتہ اول الذکر مذاکرات میں، میں نے پیشین گوئی کی تھی؛ مجھے مذاکرات کی کیفیت سے بھی معلوم ہوجاتا تھا کہ یہ لوگ کہا جارہے ہیں؛ مذاکرات کی رپورٹ میرے لئے بھی ارسال ہوتی رہتی تھی۔ دو یا تین نشستیں ہوئی تھیں؛ میں نے اسی وقت وزارت خارجہ سے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ روک دے؛ ابھی ہماری طرف سے مذاکرات کے خاتمے کا اعلان نہیں ہوا تھا کہ انھوں نے یکطرفہ طور پر مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کیا؛ ان لوگوں کی خصلت یہ ہے۔ چنانچہ یہ جو ہمارے صدر محترم اور دیگر افراد کہتے ہیں کہ ہم مذاکرات کرنے والے لوگ ہیں؛ بے شک ہم مذاکرات کرنے والے لوگ ہیں لیکن امریکیوں کے ساتھ نہیں۔ وجہ بھی یہی ہے کہ  امریکہ صداقت کے ساتھ عام مذاکرات کاروں کی طرح مذاکرات میں شریک نہیں ہوتا بلکہ بڑی طاقت کے عنوان سے مذاکرات میں شریک ہوتا ہے اور ہم بڑی طاقت والا چہرہ لے کر مذاکرات کے لئے آنے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کرتے۔آپ نے فرمایا: میں نے کئی سال قبل شیراز میں ایک عمومی خطاب کے دوران کہا کہ ہم نے قسم نہیں کھائی ہے کہ آخر تک مذاکرات نہیں کریں گے؛ بلکہ مذاکرات سے انکار کا سبب یہ عوارض ہیں کہ وہ مذاکرات کرنے والے نہیں ہیں وہ دباؤ ڈال کر مذاکرات کے لئے آتے ہیں تا کہ اپنا مقصد ہر قیمت پر حاصل کریں لیکن اسلامی جمہوریہ ایران اس طرح کے دباؤ و اور دھونس دھمکی کا جواب دے گا اور سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ وہ اگر جبر اور دھونس دھمکی پر نہ اتریں، بڑی طاقت کی بوسیدہ سیڑھیوں سے نیچے آجائیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جب تک ایسا ہو مذاکرات کا امکان نہیں ہے۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: انھوں نے یورینیم کی افزودگی کے سلسلے میں ہماری خیرسگالی کا جواب غلط انداز سے دیا تو گویا انھوں نے 20 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کے لئے ہماری حوصلہ افزائی کی۔ ہم یورینیم کو 20 فیصد تک افزودہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور وہی ساڑھے تین فیصد ہمارے لئے کافی تھا لیکن انھوں نے اپنے کردار کی بنا پر ہمارا حوصلہ بڑھایا کہ اس جانب قدم بڑھائیں؛ ہمیں انھوں نے مجبور کیا اور ہمیں انھوں نے سمجھایا کہ ہمیں خود ہی 20 فیصد افزودگی کی جانب جانا چاہئے۔ اور ان کی دوسری غلطی یہ تھی کہ انھوں نے دنبا کے سامنے بھی ثابت کرکے دکھایا کہ امریکہ اور اور یورینیم کو 20 فیصد افزودہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ممالک قابل اعتماد نہیں ہیں اور کوئی بھی ان کی امید لے کر 20 فیصد افزودہ یورینیم کی ضروریات پوری ہونے کا انتظار نہیں کرسکتا... چنانچہ جوہری معاملے میں ان کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے، ان کے پاس کوئی منطق نہیں ہے اور ہم نے اپنا راستہ ڈھونڈ لیا ہے اور اپنی حرکت جاری رکھے ہوئے ہیں ان شاء اللہ اسی راہ پر گامزن رہیں گے۔ فوجی حملے کی دھمکی کے بارے میں کہنا چاہوں گا کہ البتہ بعید از قیاس ہے کہ وہ ایسی کسی حماقت کا ارتکاب کریں؛ لیکن اگر اس طرح کا کوئی خطرہ پیش آئے تو سب کو جان لینا چاہئے کہ اس جنگ اور مقابلے کا میدان صرف ہمارا خطہ نہ ہوگا بلکہ اس جنگ کے میدان کی حدود علاقے سے بہت آگے تک ہونگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

تفصیل کے لئے کلک کریں

پچیس سالہ یہودی طالبہ نے اسلام قبول کرلیا