18 اکتوبر 2010 - 20:30

صہیونی ریاست کی بدنام زمانہ جاسوس تنظیم موساد کے سربراہ نے سعودی حکام سے ملاقات کرکے انہیں ایران کے خلاف اکسانے کی کوشش کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق صہیونی جاسوس سرغنے نے سعودی حکام کے ساتھ ایران پراسرائيل کے ممکنہ حملوں کےبارے میں بھی بات چیت کی ہے۔ پریس ٹی وی کے مطابق ورلڈ نیٹ ڈیلی ویب سائٹ نے سعودی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ صہیونی جاسوس تنظیم موساد کے سرغنے مئیر دوگان نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے حکام سے ملاقات کی ہے۔ اس رپورٹ میں آیا ہے کہ صہیونی ریاست  ایران پرحملے کرنے کےلئے سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرنا چاہتی ہے اور اس بارے میں سعودی حکام کی منظوری لینے کی کوشش کررہی ہے۔ دریں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع بریگيڈیر جنرل احمد وحیدی نے سعودی حکام کے ساتھ موساد کے سرغنے کی ملاقات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پرصہیونی ریاست  کی کسی بھی قسم کی جارحیت اس غاصب ریاست کے خاتمے کا سبب بنے گي۔ ادھر امریکی وزارت جنگ پبنٹاگان کے باخبر ذریعے نے حال ہی میں ٹائمز میگزین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے سعودی عرب کی فضائي حدود بالخصوص شمالی فضائي حدود استعمال کرنے کی اجازت لے لی ہے۔ سعودی عرب کے وزیرخارجہ سعود الفیصل نے ان دعووں کو مسترد کرتےہوئے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب اس بات کی ہرگز اجازت نہيں دے گا کہ کوئي ملک اور حکومت سعودی قلمرو کو استعمال کرکے دوسرے ملک اور قوم پرحملہ کرے۔ سعودالفیصل نے کہا کہ یہ بات خاص طور سے صہیونی ریاست  کے لئے کہی جارہی ہے کیونکہ سعودی عرب نے صہیونی ریاست کے ساتھ تعلقات بحال نہیں کئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110