نوری المالکی نے منگل کی رات کو بغداد میں امریکی فوج کے سربراہ مائکل مولن سے ملاقات میں کہا کہ عراقی قوم اپنے ملک میں بعض عرب ملکوں کی مداخلت سے سخت ناراض ہے کیونکہ اس مداخلت سے اس کے ملک کے سیاسی عمل اور استحکام پرمنفی اثرات پڑرہےہیں۔ نوری المالکی نے کہا کہ عراقی سکیورٹی فورسس دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے اور قومی فتنوں کی بیخ کنی کی بھرپور توانائي رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سکیورٹی فورسس نے ملک میں امن قائم کررکھاہے۔ عراق میں امریکہ کے ستہتر ہزار فوجی تعینات ہیں جنہيں دوہزار گیارہ کے آخر تک عراق سے نکلنا ہوگا۔
دریں اثنا عراق کے وزیراعظم کے اتحاد کے ایک رکن عدنان السراج نے کہا ہےکہ امریکہ اور بعض عرب ممالک عراق کے قومی اتحاد کی ناکامی چاہتے ہیں۔
عدنان السراج نے آج العالم سے گفتگومیں کہا کہ عراق میں امریکہ اور بعض عرب ملکوں کی مداخلت سے حالات پیچیدہ ہوگئےہیں اور سیاسی گروہوں کے مذاکرات پربھی اس مداخلت کا منفی اثر پڑا ہے۔ عدنان السراج نے کہا کہ امریکہ اور بعض عرب ممالک داخلی گروہوں کی مدد سے قومی اتحاد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے حالات کا رخ العراقیہ فہرست کے حق میں موڑنا چاہتےہیں۔
یادرہے عراق میں وزیراعظم نوری المالکی اور مجلس اعلاي اسلامی عراق کے سربراہ نے آپس میں ملکر قومی اتحاد بنایا ہے جو سب سےبڑا سیاسی اتحاد ہے ۔ عراق کے آئين کے مطابق سب سے بڑے اتحاد کو حکومت بنانے کا موقع ملنا چاہیے۔
.......
/110