17 ستمبر 2010 - 19:30

اسلام آباد میں گزشتہ حملوں میں طالبان نہیں بلکہ لال مسجد آپریشن کے ردعمل میں وجود میں آنے والی غازی فورس کی کارروائیاں تھیں۔

ذرائع کے مطابق انتقام لینے کے لیے لال مسجد میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں پر مشتمل اس گروپ کی مختصر تاریخ انتہائی خونی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام کو اب یقین ہے کہ ایک نیا عسکریت پسندوں کا گروپ موجود ہے جو تین سال قبل لال مسجد پر فوجی آپریشن کا انتقام لینے کے لیے قائم کیا گیا ہے جس نے اسلام آباد میں گزشتہ کئی بم دھماکے کیے جن کا الزام طالبان کو دیا جاتا رہا۔

غازی فورس کے نام سے عسکریت پسندوں کا یہ گروپ جولائی 2007کے لا ل مسجد آپریشن کا انتقام کے لیے اس وقت کے لال مسجد کے طلبا پر مشتمل ہے۔

اس گروپ میں سینکڑوں نوجوان نئی عسکری گروپوں سے متاثر ہیں۔

 

اکتیس جولائی 2007 کو طالبان دہشت گردوں نے مسجد کا کنٹرول سنبھال لیا۔

یہ نوجوان پاکستانی حکومت کے خلاف ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومت نے ان کو دھوکا دیا ہے۔

 8 اگست 2007 فائل فوٹو میں پاکستانی سپاہی لال مسجد کے قریب کھڑے ہیں۔

غازی فورس کی مختصرخونی تاریخ عسکریت پسندی کو فروغ دینے میں مؤثر رہی ہے اور یہ عسکریت اور انتہا پسندی علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

اس فائل فوٹو کا تعلق 22 جون 2010 سے جہاں 2007 کو "تقیہ کرکے" اور "برقعہ پہن کر" مسجد سے نکلتے ہوئے گرفتار ہونے والے مولانا عبدالعزیز کو ایسوشیٹد پریس سے گفتگو کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

پاکستان میں اربوں ڈالر خرچ ہونے کے باوجود اسلامی انتہا پسندی کواس خطے میں روکا نہیں جا سکا۔اس گروپ کا نام مولانا عبدالرشید غازی کے نام پر رکھا گیا جنہیں اس آپریشن میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110