17 ستمبر 2010 - 19:30

حزب اللہ لبنان نےتاکید کےساتھ کہاہے کہ لبنان پر صہیونی دشمن کے ہر قسم کےممکنہ حملے کامقابلہ کرنے کےلئے حزب اللہ پوری طرح تیار ہے / صہیونی ذرائع کا اعتراف؛ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سیدحسن نصراللہ کے بیانات اسرائیل کی رائے عامہ پر سب سے زیادہ موثر واقع ہوتے ہیں۔

حزب اللہ کے ایک اہم عہدیدارشیخ نبیل فاروق نے اتوار کو کہا تھا کہ حزب اللہ کے پاس صہیونی اہداف کی پوری اطلاعات موجود ہيں اور اگر صہیونی ریاست لبنان پر حملہ کرے تو حزب اللہ اس کا بھرپور کا جواب دےگی۔نبیل فاروق نےیہ بھی کہا کہ جنوبی لبنان کے عوام اور اقوام متحدہ کی محافظ امن فورس کے درمیان ہونے والی جھڑپ یونیفل پر صہیونی ریاست کےدباؤ کا نتیجہ تھی تا کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی ذمہ داری بدل دے، لیکن عوام اور فوج کی موجودگی نے اسرائیل اور داخلی موقع پرستوں کا راستہ بند کردیا۔ دریں اثناء صہیونی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سیدحسن نصراللہ کے بیانات اسرائیل کی رائے عامہ پر سب سے زیادہ موثر واقع ہوتے ہیں۔اسرائیل سےشائع ہونے والے اخبار ہاآرٹص نے اینٹلیجنس کےایک اعلی عہدارکےحوالےسےلکھاہے کہ گذشتہ تیس برسوں ميں تنہا سیدحسن نصراللہ ایسے عرب رہنما ہیں جن کے بیانات اسرائیل کی رائےعامہ کو متاثر کرتے ہیں۔اسرائیلی فوج کی سنٹرل کمانڈ کے اہم انٹلیجنس افسرجنرل رونین نےچار سال قبل ہونے والی لبنان جنگ کاجائزہ لیاہے۔ جنرل رونین کے مطابق سیدحسن نصراللہ کی تقریروں نے اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایک مضبوط ہتھیار کاکام کیا تھا۔صہیونی جنرل کاخیال ہے کہ 1962 میں صرف مصر کےصدرجمال عبدالناصر ایسے آخری عرب رہنما گذرے ہيں جن کے بیانات سےاسرائیل کی رائےعامہ متاثر ہو جایا کرتی تھی ۔

......

/110