امریکا کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ بوسنیا کے شہرسربرنیتزا میں 15 برس پہلے قتل ہونے والا ہزاروں مسلمان مرد اورنوجوان لڑکوں کی ہلاکت عالمی ضمیر پر ایک داغ ہے، انصاف کے بغیر دیر پا امن ممکن نہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان بوسنیا کے شہر سربرنیتزا میں پڑھ کر سنایا گیا جہاں قتل کا شکار ہونے والے سینکڑوں افراد کی اجتماعی تدفین کی گئی۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بوسنیا کے شہرسربرنیتزا میں 15 برس پہلے قتل ہونے والے ہزاروں مسلمان مرد اورنوجوان لڑکوں کی ہلاکت اجتماعی عالمی ضمیر پر ایک داغ ہے۔امریکی صدر کے بیان میں بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس علاقے کے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کو تسلیم کیا گیا اور انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس قتل عام کے ذمہ دار ہیں انہیں پکڑا جانا چاہیے۔
بشکریہ از روزنامہ جنگ
.......
ابنا کا شکوه:صدر اوباما نے اس موقع پر فلسطین میں امریکی حمایت یافتہ غاصب صہیونی ریاست کے ہاتھوں اور عراق اور افغانستان سمیت پاکستان اور دیگر ممالک میں امریکیوں کی بلاواسطہ اور بالواسطہ مداخلت سے لاکھوں مسلمانوں کے جاری قتل عام کی طرف اشارہ نہیں کیا اور اس کو عالمی ضمیر پر یا حتی امریکی ضمیر پر داغ نہیں سمجھا گو کہ بزرگوں کا کہنا ہے کہ ضمیر کی بات ایک عرصے تک نه سنی جائے تو وہ خاموش ہوکر سو جاتا ہے اور اس کو جگانے کی کوشش نہ کی جائے تو وہ مرجاتا ہے تو کیا امریکیوں کا ضمیر زندہ ہے جو پندره سال قبل شہید ہونے والے مسلمانوں کے قتل عام پر تو ناراضگی کا اظہار کرتا ہے مگر اسی وقت امریکیوں کے اپنے ہاتھوں قتل ہونے والوں پر خوشنود رہتا ہے!؟
.........
/110