17 ستمبر 2010 - 19:30

پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور حکومت کی جانب سے کالعدم ٹولوں پر پابندی کے فیصلے کو ناکافی قرادیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں شیعہ اور سنی عمائدین نے مشترکہ طور کالعدم ٹولوں کی سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے ۔

 اطلاعات کے مطابق جعفریہ الائنس اور سنی تحریک کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی ہر سازش کو مل کر ناکام بنایا جائے گا، سانحہ نشتر پارک، سانحہ یوم عاشور اور سانحہ داتا دربار ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں اور اس میں کالعدم ٹولے ملوث ہیں لہذا حکومت کالعدم ٹولوں کے نام کی بجائے ان کے کام اور ان میں موجودہ لوگوں پر بھی پابندی عائد کرے۔ملک میں جاری دہشتگردی میں حکومتی ادارے اور مختلف لبرل ہونے کی دعویدار سیاسی جماعتیں ملوث ہیں اور وہ ان دہشتگردوں کی حمایت کررہی ہیں، خصوصی عدالتوں اور ان میں موجود ججز صاحبان کو بغیر دباؤ کے کام کرنے کی اجازت سے ہی دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ 7 جولائی کو جعفریہ الائنس کے تحت کراچی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں تمام مسالک کے علماء پر مشتمل مزارات و مساجد بچاؤ کمیٹی کا اعلان کیا جائے گا۔ منگل کو جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے 7 رکنی وفد کے ہمراہ سنی تحریک کے مرکز پرمحمد شاہد غوری، قاری خلیل الرحمن قادری، مبین قادری اور سلیم قادری سے ملاقات کی۔ اس موقع پر جعفریہ الائنس کے سینئر نائب صدر مولانا حسین مسعودی بھی موجود تھے۔ دونوں جماعتوں کے رہنمائوں نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشتگردوں کی جانب سے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی ہر سازش کو مل کر ناکام بنایا جائے گا۔ اس موقع پر علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ مسلک اہلسنت اور شیعہ مسلک کے درمیان مذہبی حوالے سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔آج سازش کے تحت ایک مخصوص طبقے کو حکومتی سرپرستی میں ملک سے مذہبی آزادی سلب کرنے کی چھوٹ دی جارہی ہے۔اگر حکومت سانحہ نشتر پارک پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی اورملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو نہ سانحہ یوم عاشور ہوتا اور نہ ہی سانحہ داتا دربار ہوتا۔پاکستان کے تعلق سے یہ بات اطمنان بخش ہے کہ وہاں نجدی ٹولے کو گڑ پھے لانے اور بے گناہ لوگوں کو  دہشت گردی کے ذریعے قتل کرنے کے مواقع تو حاصل ہیں لیکن پورے ملک میں کہیں اور کسی مقام پر فرقہ پرستی نہیں ہے اور شیعہ سنی متحد اور مل جل کر رہ رہے ہیں ۔ البتہ امریکہ کی لگائی ہوئی آگ،  کہ جس کے تحت پاکستان میں خودکش حملے اور دہشتگردی کو رواج دیا گیا ہے اس پر قومی سطح پر مکمل اتفاق کے ذریعے ہی قابو پایا جاسکتا ہے۔

.........

/110