17 ستمبر 2010 - 19:30

کویت کے شیعہ رکن پارلیمان نے اس ملک میں وہابی افکار کے فروغ کے سلسلے میں خبردار کرتے ہوئے کہا: ہم 1920 میں جنگ "الجہراء" سے لے کر اب تک وہابیت کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کویتی رکن پارلیمان "فیصل الدویسان" نے کویت کے ایک اسکول کے امتحان میں ایک اشتعال انگیز سوال اٹھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ظاہر ہے کہ ایک انتہاپسند سلسلہ کویت میں مذہبی فتنہ انگیزی اور تشدد کو ہوا دینے میں فعال کردار ادا کررہا ہے۔
انھوں نے کہا: طالبعلموں سے اس طرح کے سوالات شیعہ، سنی اور صوفی مکاتب فکر کے غیظ و غضب کا باعث ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سب سب پہلے سنہ 1920 میں وہابیوں نے کویت میں وہابیت کے فروغ کی غرض سے وسیع اقدامات کئے اور اس زمانے میں ان افکار کا شدت سے مقابلہ کیا گیا اور اس وقت وہی افکار دوسری روشوں سے ہمارے بچوں کو سکھائے جارہے ہیں۔
واضح رہے کہ کویت کے ایک اسکول میں امتحانی پرچوں میں ایک ایسا سوال بھی دیا گیا تھا جس میں مقدس مقامات کے زائرین کو کافر قرار دیا گیا تھا۔ اس واقعے کی بعد کویت کے علماء اور مذہبی، سیاسی و سماجی شخصیات نے شدید ترین رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔
یہ سوال نام نہاد اسلامی تربیت کے پرچے میں دیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110