انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج میاں انور نذیر نے بدھ کو مقدمے کی سماعت مکمل کی تھی-خصوصی عدالت کے جج نے پانچ امریکی شہریوں رامی زم زم‘ عمان حسن یاسر‘ احمد عبداللہ منی‘عمرفاروق اور وقار حسن خان کے مقدمہ کی سماعت ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں کی ۔ اس موقع پر جیل کے اندر اور باہر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات تھے۔ سرکاری وکیل چوہدری ندیم اکرم چیمہ نے استغاثہ کی طرف سے دلائل مکمل کئے اور موقف اختیار کیا کہ ملزم امریکی شہری دہشت گردی میں تعاون سمیت بعض سنگین جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ امریکی شہریوں کے وکیل بیرسٹر حسن دستگیر نے جوابی دلائل دےئے اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔عدالت نے ملزمان کو دفعہ 120bکے تحت دس دس سال قید اور پچاس پچاس ہزار جرمانہ کی سزا سنائی عدم ادائیگی جرمانہ پر مزید تین تین ماہ قید بھگتنا ہو گی-انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 11nکے تحت پانچوں ملزمان کو پانچ پانچ سال قید اور بیس بیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے عدم ادائیگی جرمانہ پر مزید تین تین ماہ قید بھگتنا ہو گی-مقدمے کا چھٹا ملزم قاری سیف اللہ ابھی تک مفرور ہے-ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب رانا بختیار علی اس موقع پرعدالت میں موجود تھے انہوں نے ڈسٹرکٹ جیل میں خصوصی عدالت کے جج میاں انور نذیر کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کیا-انہوں نے سرگودھا میں انسداد دہشت گردی کے پبلک پراسیکیوٹر ندیم اکرم چیمہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوارڈ دینے کی سفارش کی جائے گی- یاد رہے امریکی شہریوں کو دسمبر 2009 ء کوگرفتار کیا گیا تھاجن کے خلاف تھانہ کینٹ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ‘فارن ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا-
.............
/110