17 اگست 2010 - 19:30

گو کہ سعودی عرب خطے میں امریکہ کا اصلی حلیف سمجھا جاتا ہے امریکی وزارت خارجہ بھی مزید خاموش نہ رہ سکی اور اس نے اس ملک آل سعود کی حکومت کی جانب سے عوام کی دینی آزادیوں کا قلع قمع کئے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے سعودی عرب بیان اور افکار کے اظہار کی آزادی کے حوالے سے بدترین ملک ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی وسیع پامالی سرزمین حجاز پر آل سعودی کے وہابی خاندان کی حکمرانی کا نتیجہ ہے؛ مثالیں بہت ہیں لیکن فی الحال ذیل کی مثالیں ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: 1. سعودی معاشرے کے مسائل مختلف النوع ہیں؛ منجملہ: حقوق انسان کی تضئیع اور انسانوں کی تجارت (Human Trafficking)، بیرون ملک سے آئی ہوئی ملازماؤں اور خادماؤں پر جنسی تشدد، آل سعود اور مراعات یافتہ لوگوں کے سوا، غربت و افلاس حکمرانی، دینی اور قومی اقلیتوں کا قلع قمع کرنا، بیان اور قلم کی آزادی کا انسداد، معاشرتی آزادیوں کی پامالی وغیرہ.2. معاشی جرائد میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں تیل کی دولت سے مالامال اس ملک کے مجموعی اثاثے دس کھرب (1000000000000) ڈالر ہیں تاہم ان ہی جرائد نے غربت کے حوالے سے نہایت مصیب بار اعداد و شمار شائع کئے ہیں. اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے 45 سے 60 فیصد تک عوام مکان خریدنے سے عاجز ہیں اور 75 ہزار خاندانوں کی سالانہ آمدنی 540 ڈالر سے کم ہے۔ اس رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ "گو کہ سعودی عرب کا شمار تیل کی دولت کے حوالے سے دنیا کے دولتمند ممالک میں ہوتا ہے مگر اس ملک کے عوام فقر اور غربت و افلاس کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔   3. بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق سعودی عرب میں دین اور عقیدہ کی آزادی کی صورت حال بدترین ہے۔ مثال کے طور پر دو کروڑ 20 لاکھ آبادی کے اس ملک میں دس سے 15 فیصد تک آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے مگر اتنی بڑی آبادی کو اپنے علاقوں اور حتی اپنے گھروں میں نماز جماعت ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے اور حال ہی میں بہت تھوڑے سے عرصے کے دوران شیعیان اہل بیت (ع) کی دس مساجد بند کردی گئی ہیں اور اہل تشیع سے کہا گیا ہے کہ وہ سنی مساجد میں سنی احکام کے مطابق نماز ادا کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں ناظرین کی رائی ہے کہ یہ اقدام سعودی حکمرانوں کی جانب سے اہل تشیع کو عقائد کی تبدیلی پر مجبور کرنے کی کوشش ہے۔    4. اس کے باوجود کہ سعودی عرب خطے میں امریکہ کا اصلی حلیف سمجھا جاتا ہے امریکی وزارت خارجہ بھی مزید خاموش نہ رہ سکی اور اس نے اس ملک آل سعود کی حکومت کی جانب سے عوام کی دینی آزادیوں کا قلع قمع کئے جانے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے سعودی عرب بیان اور افکار کے اظہار کی آزادی کے حوالے سے بدترین ملک ہے۔5. سعودی عرب میں عورتوں کو مستقل تشخص رکھنے کا حق نہیں دیا گیا؛ حتی کہ انہیں ڈرائیونگ کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور بہت سی خواتین خاندانی زندگی میں ـ خاص طور پر خاوندوں کی طرف سے ـ شدید آزار واذیت سے دوچار ہیں۔ ہاں! لیکن عوام کی بدبختی اور غربت و افلاس اور ان کی آزادیاں سلب کرنے کے عوض آل سعود نامی خاندان اس ملک کی خداداد دولت کا مالک بنا بیٹھا ہے؛ تیل کی دولت سعودی خاندان کے افراد میں تقسیم کی جاتی ہے اور ان کے بیرونی ملک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی ہے اور ان کی عیاشیوں پر خرچ ہوتی ہے جبکہ ان کے اسراف اور عیاشیوں کی کہانیاں زبانزد خاص و عام ہیں۔ سعودی خاندان کی عیاشیوں کا ایک چھوٹا سا نمونہ ایک بس ہے جس کی قیمت ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر ہے۔ یہ بس سعودی خاندان کے موجودہ ولی عہد «سلطان بن عبد العزیر آل سعود» کی سفارش پر تیار کی گئی ہے اور اس میں صرف سعودی خاندان کے افراد سیر و تفریح کے لئے سوار ہوسکتے ہیں۔ اس عجیب و غریب بس کی تصویریں آپ کے سامنے ہیں؛ آپ خود بتائیں کہ اسلامی عدل کا اس بس سے کتنا تعلق ہوسکتا ہے:

...........

/110