برطانیہ کے ایک مئوقر ادارے، لندن سکول آف اکنامکس، کی اتوار کے روز شائع ہونے والی رپورٹ نے شدومد کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کی حمایت پاکستان کی بااثر انٹر سروسسز انٹلیجنس ایجنسی کی "سرکاری پالیسی"ہے۔
آئی ایس آئی اور طالبان جنگجووں کے درمیان رابطوں کے بارے میں ایک مدت سے شک ظاہر کیا جا رہا تھا تاہم اب سینئر مغربی سیکیورٹی اہلکاروں کی توثیق کے حوالے سے حالیہ برطانوی رپورٹ کے بعد افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کمٹمنٹ کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کیا جائے گا ۔
رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر اس سال کے اوائل میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے پاکستانی جیلوں میں قید طالبان کے سرکردہ اسیروں سے ملاقات کی۔ یقین ظاہر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے گرفتار شدگان کی رہائی اور انہیں عسکری کارروائیوں میں مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایسے رابطے پاکستان کی سول حکومت کی طالبان کے لئے حمایت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔"
پاکستان کے ایک سفارتی ذریعے نے رپورٹ کو "احمقانہ" بتاتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان سے کسی بھی قسم کی بات افغان حکومت کا داخلی معاملہ ہے
طالبان کمانڈروں ، سابقہ سینئر وزراء، مغربی اور افغان سیکیورٹی اہلکاروں کے انٹرویوز کی روشنی میں تیارکردہ اس رپورٹ میں کیا گیا ہے کہ "پاکستان حیران کن حد تک دوہرا کردار ادا کر رہا ہے۔"
..........
/110