اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سال 2010 کی ابتداء سے امریکی اہلکاروں نے سعودی عرب کے دوروں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور امریکی اہلکاروں نے اس عرصے میں خاتون سرمایہ کاروں اور سماجی اور سیاسی کارکنوں سے ملاقاتیں اور رابطے بڑھانے کے سلسلے میں زبردست دلچسپی لینے لگے ہیں.
یکم جنوری 20100 کو امریکی قومی سلامتی کی وزیر مسز جینٹ ناپولیٹانو (Janet Napolitano)، امریکی کانگریس کے کئی اراکین، اور وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور انھوں نے کئی خواتین کارکنوں اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں اور یہ سلسلہ اسی روز سے شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔ سعودی دارالحکومت ریاض کے مطالعات نسواں مرکز کے ڈائریکٹر "فؤاد آل عبدالکریم" کا کہنا تھا کہ عام سعودی خواتین ـ بالخصوص سرمایہ کار خواتین ـ کے ساتھ امریکیوں کی ملاقاتین خاص مقاصد کے دائرے میں ہورہی ہیں جن کا براہ راست تعلق مداخلت پر مبنی امریکی اور مغربی پالیسیوں سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکیوں کا ایک مقصد سعودی عرب کو مجبور کرنا ہے کہ وہ امریکہ کو زیادہ سے زیادہ مراعاتیں دیدے حالانکہ یہ رعایتیں اجنبیوں کو دینا، ملکی آداب و روایات کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے کہا: امریکی اپنے ملک میں ہرگز عورتوں کے حقوق کا پاس نہیں رکھتے اور ان کا مقصد اپنی ہرجائی ثقافت اور ناپسندیدہ اور غیر انسانی اقدار ہمارے ملکوں میں برآمد کرنا ہے۔ سعودی عرب کے ایک سیاسی کارکن "مہنا الحبیل" نے کہا: سعودی خواتین کے ساتھ امریکیوں کی ملاقاتوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس ملک میں اپنے سیاسی اہداف کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف سے وہ ان عورتوں کے ذریعے گھرانوں کے افکار و عقائد تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں. جدہ کے ایوان تجارت کی کونسل کی رکن اور خاتون سرمایہ کار "عائشہ تتو" کا کہنا تھا کہ انہوں نے 20 دیگر سعودی خواتین کے ہمراہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے ملاقات کی ہے۔ انھوں نے امریکیوں کا رویہ مثبت قرار دیا جبکہ متعدد دیگر سعودی باشندوں اور ماہرین و تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ امریکیوں کا مقصد سعودی عرب کے مسائل میں مداخلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔جدہ کے ایوان تجارت میں بعض باخبر ذرائع نے بتایا کہ امریکی اہلکار سعودی عرب کی سرمایہ کار خواتین سے خفیہ اور بند دروازوں کے پیچھے ملاقاتیں کرتے ہیں جہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ سعودی عرب میں امریکیوں کی مشکوک سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ امریکی ذرائع ابلاغ بھی سعودی عرب میں خواتین کی معاشی اور تعلیمی سرگرمیوں میں مشکلات، حجاب کی پابندی، مرد تاجروں کے ساتھ معاشی تعاون کی اجازت نہ ہونا اور محرم کی عدم موجودگی میں بیرونی دوروں کی عدم اجازت کو سعودی خواتین کے راستے میں اہم رکاوٹین قرار دے رہے ہیں۔
.................
/110