تھامس پرگذشتہ دنوں یہودی مخالف ہونے کا الزام عائد کیا گیا اور اس کے بعد انھیں صہیونی لابی کے دباؤ میں استعفی دیناپڑا۔ تھامس نے گذشتہ ہفتے وہائٹ ہاؤس ميں امریکی یہودیوں کےسلسلےمیں منعقدہ ایک تقریب ميں ایک یہودی ربی سے گفتگو کرتےہوئے، اسرائیل پرتنقیدکی تھی۔ہیلن تھامس نے کہا تھا کہ اسرائیلیوں کوفلسطین سےباہرنکل جاناچاہئے اورجرمنی ، پولینڈ یاامریکہ چلےجاناچاہئے۔ تھامس نےاس یہودی مذہبی رہنماسےکہاتھاکہ یاد رکھئےکہ فلسطینیوں کی زمین پرقبضہ کیاگیاہے۔

ہیلن تھامس نے کہا تھا کہ اسرائیلیوں کو فلسطین سے دفع ہونا چاہئے اور انہیں جرمنی اور پولینڈ میں اپنے گھروں کو جانا چاہئے۔ (Jews should "get the hell out of Palestine" and "go home" to Poland and Germany)۔تھامس نے اس یہودی مذہبی رہنما سے کہا تھا کہ یاد رکھئےکہ فلسطینیوں کی زمین پرقبضہ کیاگیاہے۔ دریں اثناء وینی پیگ فری پریس (winnipegfreepress) کے مطابق تھامس نے اسرائیل کے بارے میں یہ بیان دینے کے فوراً بعد اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تها.ہیلن تھامس اس سے پہلے کئی بارامریکی سربراہان مملکت سے اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی پر سخت سوالات کرتی رہی تھیں لیکن ذرائع ابلاغ نےانھیں زیادہ کوریج نہیں دی تھی تا ہم اس بار ہیلن تھامس اور یہودی مذہبی رہنما کے درمیان ہونے والی گفتگو یوٹیوب پرپہنچ گئی اور وسیع پیمانے پر نشرہوئی۔اس ویڈیو کلپ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہیلن تھامس پرسخت دباؤ ڈالا گیا اور وہائٹ ہاؤس کے پریس اتاشی نے تھامس پرشدیدتنقید کی اور ان کے بیان کو حملہ قرار دیا۔ رابرٹ گیبس نےکہاکہ تھامس کےنظریات نہ صرف وہائٹ ہاؤس کے دوسرے اہلکاروں سے ہماہنگ نہیں ہیں بلکہ امریکی حکومت کےسرکاری موقف سے بھی سے بھی مطابقت نہيں رکھتے۔ درحقیقت ذرائع ابلاغ کی آزادی کا دعوی کرنے والا ملک ایک صحافی کو وہائٹ ہاؤس کی ساته نظریاتی اختلاف رکهنی کی پاداش مین ملامت اور سرزنش کا نشانه بناتا هی اور اس کو استعفی دینے پر مجبور کرتا ہے۔ ہیلن تھامس نےاپنی ویب سائٹ پرلکھاہے کہ ان کابیان ، پرامن طریقےاختیار کرتے ہوئے فریقین کےباہمی احترام کی بنیاد پر مشرق وسطی امن کے سلسلےمیں ان کے ذاتی موقف کی نفی نہيں کرتا۔ دریں اثناء والٹ وِٹمین ہائی اسکول میں تقسم اسناد میں ان کی تقریر کا پروگرام منسوخ کردیاگیا ہے۔ہائی اسکول کی پرنسپل ایلن گوڈوِن نے پروگرام میں تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئےکہاکہ تقسیم اسناد کی تقریب اختلافی باتوں کے لئے نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں ميں جس طرح صہیونیوں کی کسی طرح کی مخالفت دین یہود کی مخالفت سمجھی جاتی ہے اسی طرح امریکہ میں اسرائیلی پالیسیوں پر کسی طرح کی تنقید امریکی معاشرے اورامریکہ کےقومی اتحاد کےلئےخطرہ شمار ہوتی ہے؛ یعنی اسرائیل اور امریکہ کے قومی مفادات "ایک" سمجھےجاتے ہیں۔چنانچہ امریکہ سمیت ربی تمدن کا اصول یعنی انسانی حقوق کی پابندی، خاص طورپر آزادی بیان کی رعایت، اسرائیلی مفادات پر قربان ہو رہی ہے اور اس حقیقت کا ایک واضح ثبوت تقریبا پچاس برسوں سے وہائٹ ہاؤس میں رپورٹنگ کا کام انجام دینے والی صحافی ہیلن تھامس کا برخاست کیا جانا ہے۔
................
/110
بشکریہ از ریڈیو تہران